اسلام آباد: سما ٹی وی کے پروگرام ریڈ لائن ود طلعت حسین میں بین الاقوامی امور کے ماہر اسکاٹ کیلی نے شرکت کی اور بلوچستان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور عالمی ردِعمل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ پروگرام کے میزبان طلعت حسین نے اہم سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود بی ایل اے کو عالمی سطح پر مجموعی طور پر دہشت گرد تنظیم کیوں قرار نہیں دیا جاتا؟ حالانکہ آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک اسے اس حیثیت سے تسلیم کر چکے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں اسکاٹ کیلی نے واضح کیا کہ اگرچہ بعض ممالک نے دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اقدامات کے تحت بی ایل اے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، لیکن عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم کیے جانے سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ بین الاقوامی برادری اس خطے کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان سکیورٹی مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو بی ایل اے جیسے گروہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد اور مسلح کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
بی ایل اے کا عالمی تاثر
پروگرام کے دوران میزبان کے اس سوال پر کہ کیا بین الاقوامی برادری اس بات کو سمجھتی ہے کہ ایسے گروہوں کو برداشت کر کے وہ خود بھی خطرات پیدا کر رہی ہے؟ اسکاٹ کیلی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے بعض حصے (جیسے آسٹریلیا) یقینی طور پر اس خطرے کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم ایک طویل عرصے تک بی ایل اے کو صرف ایک مقامی مسئلہ سمجھا جاتا رہا اور یہ عام خیال تھا کہ اس سے نمٹنا صرف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری نے بی ایل اے کو کبھی داعش جیسے بڑے عالمی دہشت گرد گروہوں کے برابر خطرہ نہیں سمجھا۔ لیکن حالیہ عرصے میں ہونے والے دہشت گرد حملے، خصوصاً وہ کارروائیاں جو بلوچستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بناتی ہیں، اس تنظیم کی طرف عالمی توجہ بڑھا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تاثر میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
انٹیلی جنس تعاون
پاکستان کے پاس اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے موجود آپشنز پر روشنی ڈالتے ہوئے اسکاٹ کیلی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی قیادت میں جامع، کثیر الجہتی اور طویل المیعاد اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سفارش کی کہ پاکستان کو سب سے پہلے ان مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی جو بی ایل اے کو وسائل اور فنڈنگ فراہم کرتے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کا نظام مفلوج کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، انٹیلی جنس کے تبادلے کے لیے بین الاقوامی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
عوامی اعتماد کی بحالی
اسکاٹ کیلی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ جہاں سکیورٹی اور فوجی کاروائیاں ضروری ہو سکتی ہیں، وہیں انہیں انتہائی محدود، محتاط اور ہدفی ہونا چاہیے تاکہ صرف عسکری عناصر کو نشانہ بنایا جائے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے پائیدار حل کے لیے تجویز دی کہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں گورننس (طرزِ حکمرانی) اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔
مقامی آبادی کے حقوق، وقار اور خود مختاری کا احترام برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ اگر عوامی ناراضی بڑھتی ہے تو انتہا پسند گروہوں کے لیے نئی بھرتیاں کرنا آسان ہو جاتا ہے، اس لیے ہدفی کارروائیاں اور عوامی اعتماد کی بحالی ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہیں۔