لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

کے پی میں تعلیمی بحران: پی ایچ ڈی اساتذہ دربدر، گومل یونیورسٹی مستقل انتظامیہ سے محروم

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی بحران اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی برطرفی پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوامی مسائل نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی بحران اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی برطرفی پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوامی مسائل نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی بحران اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی برطرفی پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تعلیمی ادارے مستقل سربراہان سے محروم ہیں جبکہ اساتذہ احتجاج پر مجبور ہیں۔

June 3, 2026

پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیمی شعبے اور انتظامی گورننس کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، جہاں صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی اساتذہ اور ایڈمن افسران اپنے حقوق کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صوبے کے ان سنگین عوامی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے بجائے دھرنوں، نعروں اور سیاسی تماشوں میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے صوبے میں انتظامی خلا پیدا ہو رہا ہے۔

گومل یونیورسٹی کا بحران

صوبے کے اہم ترین تعلیمی ادارے، گومل یونیورسٹی میں اس وقت شدید ترین انتظامی بحران پیدا ہو چکا ہے جہاں حالیہ اقدامات کے تحت تقریباً 250 کے قریب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور اساتذہ کو ملازمتوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس اہم یونیورسٹی میں سال 2012 سے اب تک کوئی مستقل رجسٹرار تعینات نہیں ہو سکا ہے اور پورا ادارہ طویل عرصے سے عارضی بندوبست کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ مستقل قیادت نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی کے انتظامی اور تعلیمی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ادارے یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔

فریق بننے کا الزام

اس پورے بحران میں صوبائی حکومت کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ اور مبصرین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان، یونیورسٹی کے وائس چانسلر (وی سی) اور قائم مقام رجسٹرار کے ساتھ مل کر اس معاملے میں خود ایک فریق بن چکے ہیں، جس کے باعث میرٹ اور انصاف کے تقاضے پامال ہو رہے ہیں۔ حل طلب مسائل کو سلجھانے کے بجائے انتظامیہ اور وزارت کا یہ رویہ تعلیمی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

اڈیالہ اور حکومتی نااہلی

صوبے میں تعلیم کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیرستان جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک پی ایچ ڈی ٹاپر خاتون بھی انصاف کے حصول کے لیے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے کہ اس کے اعلیٰ دماغ سڑکوں پر رول رہے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ اپنی انتظامی نااہلی کو چھپانے کے لیے ہر اہم صوبائی مسئلے کو سیاسی ڈرامے اور اڈیالہ کی سیاست کی نذر کر دیتے ہیں۔ اب صوبے کے عوام یہ سیدھا سوال اٹھا رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ صوبے کے عوام کا نمائندہ ہے یا صرف دھرنوں اور سیاسی ایجنڈوں کا؟

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *