ویانا: آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اقوامِ متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے یو این آئی ڈی او نے پاکستان کے ‘پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ 2025-2030 کی مالی اور تکنیکی حمایت کے لیے عالمی شراکت داروں کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اہم بیٹھک میں عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا گیا ہے۔ یو این آئی ڈی او کے ڈائریکٹر جنرل گرڈ مولر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اس پروگرام کو پاکستان کی صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
دورۂ آسٹریا کا تسلسل
واضح رہے کہ اس پروگرام کی بنیاد فروری 2026 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ آسٹریا کے دوران رکھی گئی تھی، جہاں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس اسٹریٹجک معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے تھے۔ ویانا میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر کامران اختر نے اجلاس کے دوران منصوبے کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ پانچ سالہ منصوبہ پاکستان کے قومی ایجنڈے کے عین مطابق ہے۔
اس منصوبے کے تحت ملک میں کلین انرجی (پاکیزہ توانائی) کے فروغ، برآمدات میں اضافے، گرین انڈسٹری کی ترقی، اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے اور جدید مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
عالمی برادری کا عزم
اجلاس کے دوران پاکستان کی صنعتی ترجیحات اور اقتصادی اصلاحات پر عالمی شراکت داروں نے گہرے اعتماد کا اظہار کیا۔ دوست ممالک بشمول چین، جاپان، اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پی سی پی کے مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی بھرپور مالی اور تکنیکی حمایت کا عزم دہرایا ہے۔
مبصرین کے مطابق یو این آئی ڈی او کے پلیٹ فارم سے عالمی مالیاتی اداروں اور بڑی معیشتوں کا یہ مشترکہ تعاون پاکستان میں گرین انڈسٹریلائزیشن اور پائیدار معاشی استحکام کی راہ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔