اسلام آباد: پاکستان نے ایران سے متعلق حساس اور خفیہ معلومات کی امریکہ کو ترسیل سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی سختی اور دوٹوک طور پر تردید کر دی ہے۔ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایسی جھوٹی رپورٹس پھیلائی گئیں جن میں یہ من گھڑت دعویٰ کیا گیا تھا کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں اپنی حالیہ ملاقاتوں کے دوران ایرانی حساس انٹیلی جنس اور جوہری نوعیت کے پیغامات امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو منتقل کیے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان باضابطہ طور پر ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور اسحاق ڈار نے ایسا کوئی ایرانی انٹیلی جنس یا جوہری پیغام امریکی وزیرِ خارجہ کو پہنچایا اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے۔
سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنا
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق یہ تمام دعوے سراسر بے بنیاد، قیاس آرائی پر مبنی اور افواہوں کے سوا کچھ نہیں، جن کا اصل مقصد جاری نازک سفارتی عمل کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دعوے غیر مصدقہ انٹیلی جنس ذرائع پر مبنی ہیں، جن کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت یا آزاد تصدیق موجود نہیں ہے۔
Categorically reject any assertion that DPM shared any intelligence regarding Iran to US Sect of State. Such claims are entirely baseless and speculative and appear with the intent to undermine the process, says @TahirAndrabi spox @ForeignOfficePk on reports of @MIshaqDar50… pic.twitter.com/DaVmHaJq3p
— Anas Mallick (@AnasMallick) June 4, 2026
اس من گھڑت خبر کے وقت کا انتخاب بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ ایسے عناصر جو اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جاری نازک سفارتی مرحلے کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، وہ مسلسل اس معلوماتی جنگ کے ذریعے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس من گھڑت دعوے کا اصل مقصد پاکستان کو ایک پہلے سے کشیدہ جغرافیائی سیاسی تنازع میں زبردستی گھسیٹنا اور سفارتی مذاکراتی عمل کو بری طرح متاثر کرنا ہے۔ ایسے گمراہ کن بیانیے اکثر حساس بین الاقوامی مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر سامنے لائے جاتے ہیں تاکہ فریقین کے درمیان عدم اعتماد پیدا کیا جا سکے، سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے اور مذاکراتی فریقین کے مؤقف کو مزید سخت بنایا جا سکے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ خطے میں مکالمے، کشیدگی میں کمی اور تمام تنازعات کے پرامن حل کی کھل کر حمایت کی ہے۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ معلوماتی جنگ کے ان خطرناک حربوں کو سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے سے روکنا اب انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔