بلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی مشترکہ کارروائی، بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات ضبط کر لی گئیں۔

September 23, 2026

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں ہسپتالوں کو بستر خالی کرانے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

September 23, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

September 23, 2026

پاک فوج نے کرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں نشانہ بنیں۔

September 23, 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور و قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

September 23, 2026

پینتیس مطالبات منظور، پھر بھی احتجاج برقرار؛ جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی پر سخت کاروائی کا مطالبہ

آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں
آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں

آزاد کشمیر حکومت اور اپوزیشن نے جے اے اے سی کا بیانیہ مسترد کر دیا۔ مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج سیاسی ضد ہے۔

June 6, 2026

مظفر آباد: حکومت آزاد کشمیر کے ترجمان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رویے، احتجاجی روش اور سلامتی کو داؤ پر لگانے کی کوششوں پر شدید ترین ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر سراسر گمراہ کن، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے، جس کے حقائق اب مکمل طور پر عوام کے سامنے آ چکے ہیں۔

اپوزیشن کا یکجا مؤقف

حکومتی اعلامیے کے مطابق آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے مشترکہ اعلامیے کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے توثیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست کے تمام جمہوری ادارے اور عوامی نمائندے اس معاملے پر ایک صفحے پر ہیں۔

آزاد کشمیر اسمبلی عوامی نمائندگی کا سب سے اعلیٰ اور معتبر فورم ہے، اس لیے چند عناصر کو سڑک کے دباؤ کے ذریعے آئینی فیصلوں کو مسترد کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

مطالبات کی منظوری

ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، ریلیف کی فراہمی اور فیصلوں پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا۔ کمیٹی کے کل 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اب احتجاج پر اصرار کرنا عوامی مفاد نہیں بلکہ محض ایک سیاسی ضد اور ذاتی ایجنڈے کو ظاہر کرتا ہے۔ جے اے اے سی نے حکومتی لچک کا مثبت جواب دینے کے بجائے مسلسل دباؤ اور سڑک کی سیاست کو ترجیح دی اور مذاکرات کے کھلے دروازوں کے باوجود افہام و تفہیم کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ منتخب کیا۔

انتخابی عمل اور آئینی حقوق

ریاستی اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ 9 جون کو شیڈول انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ خالصتاً جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں، پہیہ جام ہڑتالوں اور دباؤ کی منفی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے حقِ رائے دہی، مکالمے اور آئینی عمل پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔

سخت ترین کارروائی کا عزم

حکومت نے انتہائی سخت اور واضح موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج سب کا جمہوری حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے، شاہراہیں بند کرنے اور عام شہریوں کی زندگی کو یرغمال بنا کر مفلوج کرنے کی اجازت کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ اگر ہٹ دھرمی اور شرپسندی کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، تو ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرے گی۔

امن و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاستی استحکام کے لیے کمیٹی کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے، گرفتاریاں عمل میں لانے اور اس غیر آئینی ڈھانچے کو قانون کے دائرے میں لا کر سختی سے کچلنے کے لیے مضبوط ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی مشترکہ کارروائی، بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات ضبط کر لی گئیں۔

September 23, 2026

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں ہسپتالوں کو بستر خالی کرانے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

September 23, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

September 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *