عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ التوا کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
العربیہ انگلش کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے اسلام آباد کو اس عزم کی تصدیق کی ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ سفارتی عمل جاری رکھنے کا خواہا ں ہے، اور یہ بات چیت فریقین کے درمیان پہلے سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت ہی آگے بڑھنی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ان ممکنہ مذاکرات کے لیے مرحلہ وار ایجنڈا بھی تجویز کیا ہے، جس کی رو سے سب سے پہلے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات کی جائے گی۔
دوسرے مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی واگزاری کا معاملہ زیرِ بحث لایا جائے گا، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں جوہری پروگرام سے متعلق امور پر گفتگو کی جائے گی۔
مزید برآں، ایران نے پاکستان کے توسط سے یہ موقف بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے ہٹ کر کسی بھی متبادل بحری راہداری بنانے کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
دیکھیے: آئندہ حملہ ہوا تو جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، ایرانی فوج کی دوٹوک وارننگ