اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی سنگین صورتحال کے تناظر میں ایران پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے کر دیے ہیں۔ ان حملوں کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں متعدد فوجی تنصیبات اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ ایرانی دارالحکومت تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
عسکری تنصیبات کو نشانہ
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی حکومت سے وابستہ فوجی ٹھکانوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔ عسکری ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں اسرائیل کے شمالی علاقوں پر کیے جانے والے میزائل حملوں کا براہِ راست اور مسکت جواب ہے۔
تہران، تبریز اور اصفہان
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنی گئیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کے مطابق اصفہان شہر میں کم از کم تین بڑے دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے تہران، تبریز اور کرج کے نواحی علاقوں میں دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔
سفارتی کوششیں
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی ایران نے اسرائیل کی حدود میں میزائل داغے تھے۔ اس کارروائی کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ امریکی صدر کا موقف تھا کہ ایرانی حملوں میں چونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اس لیے اسرائیل کو جوابی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے، تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ارادوں سے واشنگٹن کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں خدشات
ان تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے مابین براہِ راست حملوں کے اس نئے تبادلے سے عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے امکانات کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی سلامتی اور استحکام کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔