پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش اور طالبان حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے باعث افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستانی منڈیوں تک رسائی محدود ہونے کی وجہ سے افغانستان کا زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور کاشتکاروں کی تیار فصلیں، پھل اور سبزیاں منڈیوں میں خریدار نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں۔
کسانوں کا نقصان
مقامی افغان کاشتکاروں کے مطابق پاکستان کے لیے برآمدات رکنے سے مقامی منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر آ گئی ہیں۔ ایک افغان کاشتکار نے اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے مارکیٹ میں ٹماٹر کی ایک من کی قیمت 12 ہزار افغانی تک تھی، جو اب گر کر محض 500 افغانی رہ گئی ہے۔ اس شدید مندی کی وجہ سے کسانوں کے لیے فصل کی لاگت نکالنا بھی ناممکن ہو چکا ہے، جس سے وہ شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا شکار ہیں۔
پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار، فصلیں تباہ.طالبان رجیم کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کے باعث پھل اورسبزیوں کی قیمتیں متاثر،افغان کاشتکاروں مشکلات کا شکار.پہلے ٹماٹر کی ایک من کی قیمت 12ہزار افغانی تھی جواب صرف 500رہ گئی ہے،افغان کاشتکار… pic.twitter.com/Cd7f7Nk5gO
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 8, 2026
ماہرینِ اقتصادیات کا تجزیہ
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بڑی منڈیوں تک افغان برآمدات کی رسائی معطل ہونے سے افغان معیشت کے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے زرعی شعبے کو گہرا دھچکا لگا ہے۔ طالبان رجیم کی پالیسیوں اور سرحدی تنازعات کے باعث تجارتی راستے بند ہونے سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوئی ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی زرعی مصنوعات کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
طالبان سے مطالبہ
متاثرہ افغان کاشتکاروں اور زمینداروں نے طالبان حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسانوں کی مشکلات کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے فوری طور پر نہ کھولے گئے اور برآمدات بحال نہ ہوئیں، تو خطے کا پورا زرعی نظام مفلوج ہو جائے گا جس کا بوجھ عام افغان شہری اور غریب کسان اٹھانے پر مجبور ہیں۔