بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بیروزگاری، امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کے شدید غم و غصے کے بعد ایک بڑی احتجاجی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ اس احتجاج کی قیادت سوشل میڈیا سے ابھرنے والی ایک نئی نوجوان تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے کی، جس کا یہ پہلا بڑا عوامی اور علنی مظاہرہ تھا۔
تحریک کا پس منظر
رپورٹس کے مطابق اس انوکھی تحریک کا آغاز سوشل میڈیا پر اس وقت ہوا تھا جب ایک متنازع بیان میں بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور طفیلئے قرار دیا گیا تھا۔ اس توہین آمیز بیان کے ردِعمل میں امریکہ میں مقیم بھارتی کارکن ابھيجيت ديبکی نے ایک طنزیہ مہم شروع کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع سیاسی و سماجی پلیٹ فارم اور احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔
مظاہرین کے مطالبات
نئی دہلی میں جمع ہونے والے ہزاروں نوجوانوں نے ہاتھوں میں بھارتی آئین کے نسخے اور پھول اٹھا رکھے تھے، اور انہوں نے اپنے اس اقدام کو اصلاحات اور احتساب کے لیے ایک پرامن پکار قرار دیا۔ مظاہرین نے مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور بالخصوص حالیہ دنوں میں میڈیکل کے مسابقتی امتحانات کے پرچوں کے آؤٹ (لیک) ہونے کے اسکینڈلز پر شدید احتجاج کیا۔ نوجوانوں نے تعلیمی شعبے میں ساختیاتی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بھارتی وزیرِ تعلیم دارمندرا برادان سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
مودی کے لیے چیلنج
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ تحریک اپنی ڈیجیٹل مقبولیت کو مستقل سیاسی طاقت میں بدل پائے گی یا نہیں، تاہم نئی دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں کا یہ بڑا ہجوم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی نوجوانوں میں موجودہ اقتصادی صورتحال اور نظام کے خلاف مایوسی اور غصہ انتہائی حد تک بڑھ چکا ہے، جو بھارتی حکومت کے لیے ایک نیا اور بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔