کابل: افغانستان کے صوبہ ہرات کے علاقے جبرائیل میں خواتین کی مبینہ من مانی گرفتاری اور لازمی حجاب پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے مظاہرین پر طالبان اہلکاروں کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، پُرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری شدید زخمی ہو گئے۔
سیاسی اور اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق خواتین کی گرفتاریوں اور لباس سے متعلق سخت پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے شہریوں پر گولی چلانا طالبان کی اس مخصوص حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے خالصتاً طاقت اور جبر کے بل بوتے پر اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
ہرات میں ہونے والے یہ حالیہ مظاہرے اس بات کی واضح نشاندہی ہیں کہ طالبان کی سخت گیر سماجی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردِعمل اب محض خواتین کے حقوق تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ طالبان کی مجموعی طرزِ حکمرانی اور حکومتی جواز کے خلاف ایک وسیع تر عوامی چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
Alert: Protests against the Taliban have erupted in Jibrail city of Herat Province, Afghanistan, following the arrest of a woman by Taliban authorities. According to local residents, Taliban forces opened fire on demonstrators, killing one person and injuring several others.… pic.twitter.com/MwCYAzJp1k
— Mahaz (@MahazOfficial1) June 9, 2026
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک معصوم بچے کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جو اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پُرامن اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال کی بھاری قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
طالبان کی ان متعصبانہ پالیسیوں اور خواتین کی بلاجواز گرفتاریوں نے افغان معاشرے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس سے کابل انتظامیہ کی ترجیحات اور افغان عوام کی توقعات کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج نمایاں ہو گیا ہے۔
ہمیشہ کی طرح، طالبان کی جانب سے ان پُرامن مظاہرین کو امنِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے، جو ان کے اس روایتی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں وقار، شخصی آزادی اور انصاف کے جائز مطالبات کو ملکی سلامتی کا مسئلہ بنا کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اخلاقی نگرانی اور سماجی ضابطوں کے نفاذ کے نام پر شہریوں پر فائرنگ نے طالبان کے ان دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو وہ عوامی تائید اور حکومتی قبولیت سے متعلق عالمی سطح پر کرتے آئے ہیں۔
ناقدین اور بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ہرات کے حالیہ مظاہرے دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ ملک میں منظم عسکری مزاحمت کی عدم موجودگی کو کسی صورت طالبان حکومت کی عوامی قبولیت یا اطمینان کا مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کا اخلاقی نگرانی کا پورا نظام عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف نگرانی، گرفتاریوں اور نظریاتی کنٹرول کے ایک جابرانہ آلے کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہرات کے سنگین واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ طالبان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج صرف ان کے مسلح مخالفین نہیں، بلکہ افغان عوام میں بڑھتی ہوئی شدید ناراضی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق عوامی خدشات ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر قبولیت، قانونی حیثیت اور سفارتی تعلقات استوار کرنے کی طالبان کی تمام تر کوششیں اس وقت شدید متاثر ہوتی ہیں جب زمینی حقائق میں پُرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کو گولیوں کے زور پر خاموش کرانے کے جابرانہ واقعات سامنے آتے ہیں۔