دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں برسوں سے جاری کشیدگی، اعتماد کے بحران اور علاقائی تنازعات کے درمیان سفارت کاری نے غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا حالیہ فریم ورک معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے پسِ منظر میں پاکستان کا کردار جس تسلسل، توازن اور فعال سفارت کاری کے ساتھ سامنے آیا ہے، وہ عالمی سطح پر ایک قابلِ ذکر مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں یہ اعلان کہ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے، دراصل اس طویل اور کٹھن سفارتی سفر کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان نے پسِ پردہ رہ کر طے کیا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جس فہم و فراست کے ساتھ اس بحران میں اپنے پتے کھیلے، اس نے دنیا بھر میں ملک کے سفارتی وقار کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شب و روز کی محنت، مسلسل مشاورت اور تزویراتی حکمتِ عملی نے اس انتہائی نازک اور نشیب و فراز سے بھرپور عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بنیاد کا کام کیا۔
یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں ہی کا ثمر ہے کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونے والی اس تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ اور عالمی دستخطی تقریب کی میزبانی کا اعزاز بھی پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔ یہ تقریب دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک سہولت کار نہیں بلکہ عالمی امن کے ایک اہم ستون کے طور پر پیش کرے گی۔
اس عظیم سفارتی کامیابی پر عالمی برادری نے جس والہانہ انداز میں پاکستان کی ستائش کی ہے، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تعمیری اور فعال کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی غیر معمولی سفارتی کوششوں کو خطے میں پائیدار استحکام کا ضامن قرار دیا، جبکہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اس عمل میں پاکستان سمیت تمام علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے اس امن عمل کی پشت پناہی اور پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں پر اعتماد نے اس کوشش کو مزید مستحکم کیا۔
مغربی دنیا اور دیگر بڑی عالمی قوتوں کی جانب سے بھی پاکستان کے اس کردار کا کھل کر اعتراف کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کو اس عظیم سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ جرمن چانسلر فریڈرک میرز اور آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے پاکستان کے طویل مدتی سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان کی ثالثی نے عالمی برادری کو ایک بڑے حادثے سے بچا لیا ہے۔ حتیٰ کہ جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹےگی نے پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو خصوصی طور پر ٹیلیفون کر کے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ دنیا پاکستان کو عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک ناگزیر عنصر سمجھتی ہے۔
داخلی محاذ پر اس امن معاہدے کے اثرات پاکستان کی معیشت کے لیے دور رس اور انتہائی مثبت ثابت ہوں گے۔ پچھلے کئی ماہ سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اب جبکہ آبنائے ہرمز بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھل رہی ہے اور تیل کی قیمتیں مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، تو پاکستان کے لیے معاشی بحالی کا ایک سنہرا موقع پیدا ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ عزم کہ اس معاہدے کے عالمی معاشی ثمرات ہر پاکستانی کی دہلیز تک پہنچائے جائیں گے، ایک خوش آئند اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت پوری وزارتِ خارجہ نے جس جانفشانی سے اس مشن کو پورا کیا، اب وقت ہے کہ اسی یکسوئی کے ساتھ ان معاشی فوائد کو عوام تک منتقل کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جامع حکمتِ عملی وضع کی جائے۔
تاہم جہاں یہ معاہدہ ایک عظیم کامیابی ہے، وہیں آنے والے 60 دن انتہائی نازک اور امتحانی ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق اس عرصے میں پابندیوں کے خاتمے اور جوہری پروگرام کے مستقبل جیسے پیچیدہ امور پر تفصیلی بات چیت ہونی ہے۔ برطانوی، فرانسیسی اور جرمن قیادت (ای-4 گروپ) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری اقدامات کے بدلے پابندیاں اٹھانے کو تیار ہیں لیکن جوہری ہتھیاروں کے عدم حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کا اس معاہدے سے لاتعلق رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں اب بھی پوشیدہ خطرات موجود ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو جنیوا کانفرنس کے بعد بھی اپنے سفارتی چینلز کو متحرک رکھنا ہوگا تاکہ یہ عارضی جنگ بندی ایک مستقل اور پائیدار امن معاہدے میں تبدیل ہو سکے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں امن کا علمبردار ہے، اور اب اسی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیں عالمی اور داخلی سطح پر استحکام کی نئی منزلیں طے کرنی ہوں گی۔
دیکھیے: امن معاہدے کا حتمی متن تیار، امن قائم کرنے کے اتنے قریب پہلے کبھی نہیں تھے: شہباز شریف