امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اقوام متحدہ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ کی بلیک لسٹنگ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔
پاک چین سفارتی کوششیں
مضمون کے مطابق پاکستان اور چین نے بی ایل اے کو عالمی سطح پر سفارتی اور مالی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر رکھا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس عمل کو طول دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ واشنگٹن خود بھی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکا ہے۔
علاقائی سلامتی کو خطرات
تجزیے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود مبینہ محفوظ ٹھکانے علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں اور بی ایل اے اب محض ایک مقامی گروہ نہیں بلکہ علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی تنظیم بن چکی ہے۔
مضمون کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شمولیت سے بی ایل اے کے اثاثے منجمد کرنے، عالمی سفری پابندیاں عائد کرنے اور اس کے مالی ذرائع سمیت بین الاقوامی نیٹ ورکس کو محدود کرنے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔
امریکی مفادات
مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بی ایل اے ماضی میں سی پیک منصوبوں، چینی شہریوں اور پاکستانی سول و عسکری اہداف کو نشانہ بناتی رہی ہے، اور اگر اس کی عالمی سطح پر سہولت کاری کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
دی ڈپلومیٹ نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان کے معدنی ذخائر میں امریکی دلچسپی کے تناظر میں، مستقبل میں امریکی سرمایہ کاری اور وہاں تعینات عملہ بھی ان ممکنہ خطرات کی زد میں آ سکتا ہے، لہٰذا بی ایل اے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر متوازن اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔