وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر پیٹرولیم کا مؤقف انتہائی واشگاف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جیسے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں گی، اس کا پورا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا، اور اگر قیمتیں اسی تسلسل سے گرتی رہیں تو یہ پرانی سطح پر واپس آ جائیں گی۔
ٹارگٹڈ سبسڈی
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس وقت بھی عوام کو 130 ارب روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیوی خطے میں شروع ہونے والے تنازعات سے پہلے بھی عائد تھی، اور پیٹرولیم لیوی کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ہدف یقیناً حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خطے کی صورتحال
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی اشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال جتنا جلدی معمول پر آئے گی، مہنگائی کی شرح میں اتنی ہی تیزی سے کمی واقع ہوگی۔
انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان میں صورتحال مکمل کنٹرول میں رہی، ملک میں کہیں ماردھاڑ یا گاڑیوں کی طویل قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی کسی بنیادی چیز کی قلت پیدا ہوئی۔
اداروں کی بندش اور سبسڈی
نجکاری اور اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس بار حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو پرائیویٹائز کیا ہے، اور وہ اس ماڈل پر سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتے رہیں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت خسارے کا باعث بننے والے کچھ سرکاری ادارے بند کر رہی ہے، جن میں پی ڈبلیو ڈی، پاسکو اور یوٹیلٹی کارپوریشن شامل ہیں۔ ان اداروں کو بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اربوں روپے کی سبسڈی جا رہی تھی، اور ان غیر پیداواری اخراجات کا خاتمہ ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔