بھارت میں برسرِاقتدار جماعت بی جے پی اور نریندر مودی کی پھیلائی ہوئی نفرت انگیز اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں اب مغربی ممالک میں مقیم بھارتیوں کے لیے ہندوفوبیا کا ایک نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بھارتیوں کا منفی تشخص
بھارتی جریدے نیشنل ہیرالڈ میں شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی عالمی سطح پر بھارتی شہریوں کا ایک منفی رخ سامنے لے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی انتہا پسندی نے بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ مودی سرکار کے خود ساختہ عالمی طاقت بننے کے جھوٹے تاثر نے مغربی معاشروں میں بھارتی شہریوں کے رویوں پر تنقید کے دروازے کھول دیے ہیں۔
مقامی ثقافتوں کی توہین
جریدے نے مزید انکشاف کیا کہ مودی کے حامیوں نے مغربی ممالک میں مقیم رہتے ہوئے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویوں کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کی خود پسندانہ اور جارحانہ سوچ نے بھارتی سیاحوں اور تارکینِ وطن کے ایک مخصوص طبقے کو دوسرے ممالک کے مقامی طور طریقوں اور ثقافت کی توہین کرنا سکھایا ہے، جس کا منفی ردِعمل اب پوری بھارتی برادری کو جھیلنا پڑ رہا ہے۔
ہندوتوا انتہا پسندی کا پلٹتا ہوا وار
عالمی امور کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مودی کی نفرت انگیز ہندوتوا پالیسیوں کا نقصان اب خود بھارتی شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مودی حکومت نے جس انتہا پسند ہندوتوا سوچ کے ذریعے دنیا بھر میں منظم طریقے سے اسلامو فوبیا کو ہوا دی تھی، آج اسی انتہا پسندی اور جنونیت کے ردِعمل میں مغرب میں بھارتی شہریوں کو ہندوفوبیا اور معاشرتی دوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے اپنی اقلیت دشمن اور انتہا پسندانہ پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو عالمی سطح پر بھارتیوں کا سفارتی اور سماجی تشخص مزید پامال ہوگا۔
دیکھیے: بی ایل اے کی بلیک لسٹنگ کے لیے امریکہ پاکستان کی حمایت کرے، دی ڈپلومیٹ