وانا: جنوبی وزیرستان کے تجارتی و انتظامی مرکز وانا اور گردونواح میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مقامی آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں خوارج نے توجی خیل قبیلے کی 4 گاڑیوں پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے اور قبیلے کے متعدد افراد کو قریبی پہاڑی علاقوں سے طاقت کے زور پر بے دخل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کی جانب سے علاقے میں موجود توجی خیل قبائل کے افراد کے خلاف نام نہاد گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث پرامن مقامی آبادی اور معصوم شہریوں میں شدید خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی فضا پائی جاتی ہے۔
معاشی استحصال
مقامی قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے ان پرامن قبائل کے خلاف یہ دہشت گردانہ کاروائیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد مقامی لوگوں پر دباؤ بڑھانا، ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور انہیں اجتماعی سزا دینا ہے۔
قبائلی عمائدین نے اس مخدوش صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دانستہ طور پر پرامن شہریوں کو نشانہ بنانے سے علاقے میں بے یقینی اور عدم استحکام کو ہوا مل رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق توجی خیل قبیلے کے افراد کو آبائی علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیے جانے کے بعد درجنوں متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بے گھر ہونے والے ان خاندانوں کو سر چھپانے کے لیے رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔
عمائدین کا ردعمل
علاقے کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے مشاہدین کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے معصوم شہریوں کو دھمکیاں دینا، زبردستی بے دخل کرنا اور ان کی قیمتی املاک پر قبضہ کرنا اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ یہ گروہ اب صرف خوف اور جبر کے سہارے اپنا گرتا ہوا اثر و رسوخ قائم رکھنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ پرامن شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی یہ کوشش کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔
قبائلی مشران نے گاڑیوں کے چھینے جانے کو کھلی لوٹ مار اور معاشی استحصال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات سے متاثرہ خاندانوں کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔
علاقے کے عوام اور توجی خیل قبیلے کے مشران نے مقتدر حلقوں اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے جان و مال کے تحفظ، گاڑیوں کی واگزاری اور ان کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔