حکومتِ پاکستان اور ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال اور سڑکوں کی بندش سے متعلق بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کو مضحکہ خیز، یکطرفہ اور زمینی حقائق کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے صحافتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر بی بی سی اردو کے خلاف باضابطہ اور سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بی بی سی کی رپورٹ غیر مصدقہ اور من گھڑت دعوؤں پر مبنی ہے، جس میں جان بوجھ کر سرکاری مؤقف، دستیاب حقائق اور آن ریکارڈ شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک عالمی ادارے کی جانب سے مستند ذرائع سے تصدیق کیے بغیر ایسی گمراہ کن معلومات کی اشاعت ایک تشویشناک رجحان ہے، جس کا مقصد عوام میں ہیجان اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد جموں و کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے مظفر آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا کے دعوؤں کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔ آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی تمام مرکزی شاہراہیں ٹریفک کی روانی اور ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اقدامات کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے نظام کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف راولاکوٹ کے چند محدود مقامات پر جزوی رکاوٹیں موجود ہیں، جبکہ بی بی سی نے زمینی صورتحال کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا۔
علاوہ ازیں، دفترِ خارجہ نے اس معاملے پر برطانوی حکومت سے بھی رابطہ کیا ہے۔ پاکستان نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ارکانِ پارلیمنٹ اور وہاں مقیم پاکستانی نژاد افراد کو آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والی کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی سے سختی سے روکے۔
دفترِ خارجہ نے برطانوی حلقوں کی جانب سے دیے گئے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان کے داخلی امور میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ حکام نے بین الاقوامی میڈیا اور متعلقہ عناصر پر زور دیا ہے کہ وہ صحافتی اخلاقیات کی پاسداری کریں اور پاکستان کے اندرونی معاملات پر مہم جوئی سے گریز کریں۔