پاکستان کی جانب سے افغانستان میں روپوش شرپسندوں کے خلاف کی جانے والی حالیہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد کابل انتظامیہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ طالبان وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان ملا صدیق اللہ نصرت نے پاکستان کے خلاف مبینہ درست نشانے والے حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حقائق کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ابتدائی نوعیت کے ڈرون اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہے اور فضا میں زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔
پاک افغان کشیدگی
پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین پر موجود فتنہ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان حکومت نے عالمی برادری سے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم، سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملے اور کابل کی جانب سے ان عناصر کو فراہم کردہ پناہ گاہیں ان کے بین الاقوامی وعدوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہیں۔
د افغان هوايي ځواک بریدونو کې ملکي وګړي خوندي دي
— صدیق الله نصرت / Sadeequllah Nasrat (@NasratMOD) July 1, 2026
د دفاع وزارت مرستیال ویاند مولوي صدیقالله نصرت ویلي، دغو بریدونو کې د شر او فساد مرکزونه په دقیق ډول په نښه شوي او درانده ځاني او مالي زیانونه ور اوښتي.
د هېواد هوایي ځواک د پاکستان پوځي رژیم وروستیو بریدونو په غبرګون تېره شپه د… pic.twitter.com/OGpRBibpah
ناکام ڈرون مشن
پاکستان کی ہدفی کارروائیوں نے نہ صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا بلکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے سرپرستوں کو بھی بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ طالبان کے نائب ترجمان ملا صدیق اللہ نصرت درست نشانے والے حملوں کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے بھیجے گئے ڈرون اتنی دیر بھی فضا میں نہ رہ سکے کہ اپنے ہدف تک پہنچتے، جس سے ان کی تکنیکی کمزوری واضح ہوتی ہے۔ سرحد پار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجنے کی یہ ناکام کوشش دراصل جوابی کارروائی نہیں بلکہ کابل انتظامیہ کی حواس باختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کابل اور قندھار میں مراکز
سکیورٹی ناقدین اور علاقائی ماہرین کے مطابق، طالبان رہنما پاکستانی علاقوں کو شر کا مرکز قرار دے کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کے اصل مراکز کابل اور قندھار میں موجود ہیں، جہاں سے مختلف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی مبینہ نگرانی کی جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بھی ان دستاویزی حقائق کی تصدیق کرتی ہیں، جن میں افغانستان کے اندر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 13ہزار سے زائد جنگجوؤں کی موجودگی کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی برادری کے لیے پیغام
ناکام ڈرون کارروائیاں اور کابل کا جھوٹا پروپیگنڈا اس حقیقت سے عالمی برادری کی توجہ نہیں ہٹا سکتا کہ طالبان حکومت فتنہ الخوارج جیسے خطرناک گروہوں کو تحفظ اور سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش اور دوسری جانب دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی ایک ایسا واضح تضاد ہے جسے محض بیانات سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ کابل کو خطے کے امن کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
دیکھیے: بی بی سی شدید تنقید کی زد میں، افغان طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام