جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے بزدلانہ حملے میں افغان سر زمین اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کے بعد، افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (یوناما) کا دہرا معیار اور خاموشی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔
دس نومبر 2025 کو کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ متعلقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور کا نام جن اللہ عرف زاہد ایوبی ولد دولت خان تقی ہے، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع مومند درہ کے گاؤں کوچیانو کا رہائشی تھا۔
تعزیتی تقاریب
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد 22 دسمبر 2025 کو افغانستان میں ایک باقاعدہ اور اعلانیہ تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہلاک شدہ خودکش حملہ آور کی تصاویر کھلے عام آویزاں کی گئیں۔



اس تقریب کی خاص بات طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام کی شرکت تھی، جو افغان حکومت کی جانب سے ان عناصر کی سرپرستی اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے۔ اس تمام صورتحال نے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
یوناما کا دہرا معیار
دوسری طرف، اس واقعے نے اقوامِ متحدہ کے ادارے یوناما کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جب بھی پاکستان اپنی سلامتی کے دفاع میں افغانستان کے اندر چھپے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر اور ہدف شدہ کارروائیاں کرتا ہے، تو یوناما کی جانب سے فوری طور پر طالبان حکومت کے پراپیگنڈے کو دہراتے ہوئے مبینہ شہری ہلاکتوں کا واویلا شروع کر دیا جاتا ہے۔
تاہم اب جب کہ ایک افغان شہری کا پاکستان میں خودکش حملے میں ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے اور افغان حکام خود اس کی پذیرائی کر رہے ہیں، یوناما کی جانب سے مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔
مجرمانہ خاموشی
تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر یوناما کی یہ منتخب خاموشی اور معذرت خواہانہ رویہ غیر جانبداری کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔
دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی پشت پناہی کے اتنے واضح شواہد کے باوجود عالمی ادارے کا احتجاج نہ کرنا اور مذمتی بیان جاری نہ کرنا اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ یہ رویہ غیر جانبداری نہیں بلکہ بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی حمایت اور اس میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کی بقا کے لیے دہشت گردی کے خلاف یکساں اور ٹھوس موقف اختیار کرے اور دہرے معیار سے گریز کیا جائے۔
دیکھیے: پاکستان میں ملوث افغان دہشت گردوں کے افغانستان میں جنازے، شواہد سامنے آ گئے