امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے 90 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون کے گودام اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
کروز میزائلوں سے شمالی ایران میں ریلوے کے دو پلوں کو بھی تباہ کیا گیا، جس سے تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل ہو گئی۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب ہے۔
جوابی حملہ
امریکی بمباری کے ردِعمل میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بڑا میزائل اور ڈرون آپریشن کیا ہے۔ ایرانی حملوں میں کویت کے عریفجان اور علی السالم، جبکہ بحرین کے الجفیر اور شیخ عیسیٰ اڈوں کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس دوران کویت، بحرین اور قطر کے فضائی دفاعی نظام متحرک رہے اور خطے میں الرٹ جاری کیا گیا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں دیگر امریکی اڈے بھی نشانہ بنیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایران کو بدترین صورتحال کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ دوبارہ حملے کی صورت میں مزید برا ہوگا۔
تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کے لیے بے چین ہے۔ دوسری طرف، ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں کو غنڈہ گردی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دیکھیے: ایران کے ساتھ معاہدہ اور جنگ بندی ختم ہو چکی، ڈیل نہیں کرنا چاہتا: ٹرمپ