حالیہ کشیدگی اور بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی اس مسئلے کے سفارتی اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ہفتے ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین سمیت دیگر علاقائی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس شدید عسکری تصادم کے باعث خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل سے رابطہ
اس سنگین صورتحال کے دوران ایک اہم سفارتی رابطہ بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے رابطہ کیا ہے، جس کے دوران انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور معاہدوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران امریکی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر عمل نہ کرنا معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے، جو امریکہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نازک صورتحال میں پاکستان اور قطر بطور ثالث سرگرم ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک ایران اور امریکا کو دوبارہ باقاعدہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی دعوی
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ شدید فوجی کشیدگی اور براہِ راست حملوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بدستور جاری ہیں اور واشنگٹن اب بھی اس مسئلے کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے واشنگٹن کے روایتی عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ڈیل یا معاہدہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے تہران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اگر ایرانیوں کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں اب تک استعمال کر چکے ہوتے۔
پاسدارانِ انقلاب کا بیان
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا بدلہ لینے کے حتمی عزم کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا قتل تاریخ سے کبھی مٹایا نہیں جا سکے گا اور اس بزدلانہ کارروائی کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ انصاف کی مکمل فراہمی اور مجرم عناصر، خصوصاً امریکی فوج کو سزا دینا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور تمام دشمن طاقتیں یہ جان لیں کہ اس قتل کے ذریعے وہ مزاحمت کا پرچم ہرگز سرنگوں نہیں کر سکتے، اور شہداء کے خون کا بدلہ لینا ایران کا حتمی اور جائز مطالبہ رہے گا۔