اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی رپورٹس اور کراچی سے افغان درانداز عثمان علی کی گرفتاری نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی تردید کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔

July 10, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں این آر ایف نے طالبان پر حملہ کر کے 2 اہلکاروں کو ہلاک، 3 کو زخمی اور ایک فوجی گاڑی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

July 10, 2026

بلوچستان میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری ہے، جبکہ مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 75 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

July 10, 2026

طالبان رجیم کے زیرِ سرپرستی دہشت گردی کے پھیلاؤ پر عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی۔

July 10, 2026

ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں الوداعی سفر کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں نمازِ جنازہ ادا کر کے روضہ امام رضا میں تدفین کر دی گئی۔

July 10, 2026

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے کامیاب مذاکرات کے بعد کوئٹہ کے ایئر پورٹ روڈ پر دھرنا ختم کر دیا گیا، جبکہ ہنہ اوڑک سے اغوا کیے گئے 11 مقامی افراد بحفاظت بازیاب ہو گئے ہیں۔

July 10, 2026

افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی: عالمی رپورٹس اور طالبان کے مؤقف میں واضح تضاد

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی رپورٹس اور کراچی سے افغان درانداز عثمان علی کی گرفتاری نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی تردید کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔
اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی رپورٹس اور کراچی سے افغان درانداز عثمان علی کی گرفتاری نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی تردید کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی اور 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر عالمی دستاویزی شواہد نے طالبان حکومت کا مؤقف مسترد کر دیا۔

July 10, 2026

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے اس مؤقف کو ایک بار پھر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد گروہوں کے زیرِ استعمال ہے۔ تاہم افغان طالبان کی یہ تردید بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹس، زمینی دستاویزی شواہد اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق دوحہ معاہدے کے تحت ان کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کے بالکل برعکس ہے۔

پاکستان متعدد مواقع پر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، افغان دہشت گردوں کی شناخت، گرفتار دراندازوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق ناقابلِ تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ آج یہ خدشات اور سکیورٹی چیلنجز صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے، بلکہ یورپ، روس، چین، امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسلسل دستاویزی رپورٹس بھی ان کی مکمل تائید کرتی ہیں۔

برطانیہ کی نشاندہی

برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے اس حوالے سے واضح اعتراف کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں تربیتی مراکز، جدید اسلحہ، مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔

یورپی یونین کا اظہارِ تشویش

اسی طرح یورپی یونین کے خصوصی ایلچی جائلز برٹرینڈ نے بھی ٹی ٹی پی کو باقاعدہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز، اسلحے کی ترسیل کے نیٹ ورکس اور مالی معاونت کے فعال نظام کا گڑھ بنا ہوا ہے، جو پورے خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس

عالمی اداروں کی رپورٹس محض سیاسی بیانات نہیں ہیں، بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 16ویں، 35ویں، 36ویں اور 37ویں رپورٹس مسلسل اس خطرناک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں، جبکہ وہاں سرگرم دہشت گردوں کی مجموعی تعداد تقریباً 13 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان بتائی گئی ہے۔

عالمی طاقتوں کے خدشات

خطے کے اہم ممالک بھی اس پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ روس نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 18 ہزار سے 23 ہزار تک شدت پسند موجود ہیں۔ چین کی جانب سے بھی ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم، القاعدہ اور داعش خراسان کے خلاف مؤثر کارروائی کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کراچی حملہ اور افغان شہری

طالبان کے انکار کے دعوؤں کو سب سے بڑا اور حالیہ جھٹکا 27 جون کو کراچی رینجرز پر ہونے والے حملے کے بعد لگا، جب موقع سے ایک افغان شہری عثمان علی کو زندہ گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افغان دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جلال آباد کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تاکہ یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دے سکے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر موجود ان دستاویزی حقائق کو تسلیم کرنے اور یہ وضاحت دینے کے بجائے کہ افغان سرزمین پر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کیوں فعال ہیں، ذبیح اللہ مجاہد مسلسل عمومی تردید کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان کا یہ روایہ طالبان حکومت کی اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے وعدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناامید کوشش ہے۔

دیکھیے: پاکستان نے مزید 49 غیر قانونی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا

متعلقہ مضامین

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں این آر ایف نے طالبان پر حملہ کر کے 2 اہلکاروں کو ہلاک، 3 کو زخمی اور ایک فوجی گاڑی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

July 10, 2026

بلوچستان میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری ہے، جبکہ مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 75 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

July 10, 2026

طالبان رجیم کے زیرِ سرپرستی دہشت گردی کے پھیلاؤ پر عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی۔

July 10, 2026

ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں الوداعی سفر کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں نمازِ جنازہ ادا کر کے روضہ امام رضا میں تدفین کر دی گئی۔

July 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *