"> افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے، طالبان وزیر کا بیان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے: طالبان وزیر کا نئی دہلی میں متنازع بیان

طالبان وزیر عطا اللہ عمری کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔ ان کے بیان کے بعد بھارت، اسرائیل اور طالبان کے روابط، مشترکہ مفادات اور علاقائی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
طالبان وزیر کا نئی دہلی میں متنازع بیان

افغان وزیر کے متنازع بیان اور بھارت، اسرائیل، طالبان کے بڑھتے روابط نے خطے میں سرمایہ، ٹیکنالوجی اور جنگجوؤں کے خطرناک اشتراک کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 11, 2026

طالبان حکومت کے وزیر زراعت عطا اللہ عمری نے اپنے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔ یہ متنازع بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مسلسل وسعت دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان اب بھی بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور طالبان پر دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سنگین الزامات برقرار ہیں۔

ماہرین کے مطابق عطا اللہ عمری کی جانب سے ایک ڈی این اے کا یہ بیانیہ دراصل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت میں برسرِاقتدار مودی سرکار کے انتہا پسند عناصر اور افغانستان میں طالبان کا یہ گٹھ جوڑ خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کی کوشش ہے۔

اس نظریاتی سلسلے کی کڑیاں اسرائیل سے بھی ملتی ہیں، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کو فادر لینڈ اور بھارت کو مدر لینڈ قرار دے چکے ہیں۔ اب طالبان حکومت کو اسی نظریاتی سلسلے کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی طالبان کو سیاسی قبولیت اور سفارتی حیثیت دینے کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔

سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کسی تاریخی یا ثقافتی رشتے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تشدد، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور مشترکہ سیاسی مفادات پر استوار ہیں۔ یہ وہی بھارت ہے جو ماضی میں اقوام متحدہ کے ہر فورم پر طالبان کو باقاعدہ دہشت گرد قرار دیتا رہا، مگر اب اپنے سیاسی مفادات کے لیے طالبان وفود کا سرخ قالین پر خیرمقدم کر رہا ہے۔

اس ناپاک گٹھ جوڑ کے پیچھے باہمی مفادات کا ایک گہرا نظام کام کر رہا ہے۔ ایک طرف طالبان خطے میں انتہا پسندی کو ریاستی بیانیے کی شکل دینے کے طریقے سیکھ رہے ہیں، تو دوسری طرف مودی سرکار طالبان کے سخت طرزِ حکمرانی سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس بیانیے کے تحت بھارت، اسرائیل اور طالبان مل کر پاکستان کے خلاف ایک خطرناک اور مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں۔ اس تثلیث میں بھارت سرمایہ اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے، اسرائیل ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون پشِ لفظ رکھ رہا ہے، جبکہ طالبان جنگجوؤں کی دستیابی کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق عطا اللہ عمری کا بیان کسی مشترکہ تاریخ کا مظہر نہیں، بلکہ یہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی نظریاتی قربت کا واضح ثبوت ہے۔ اپنے سیاسی و تزویراتی مفادات کی خاطر دونوں ممالک دہشت گردی جیسے حساس اور سنگین مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، جو خطے کے لیے شدید خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *