طالبان حکومت کے وزیر زراعت عطا اللہ عمری نے اپنے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔ یہ متنازع بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مسلسل وسعت دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان اب بھی بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور طالبان پر دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سنگین الزامات برقرار ہیں۔
ماہرین کے مطابق عطا اللہ عمری کی جانب سے ایک ڈی این اے کا یہ بیانیہ دراصل خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت میں برسرِاقتدار مودی سرکار کے انتہا پسند عناصر اور افغانستان میں طالبان کا یہ گٹھ جوڑ خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کی کوشش ہے۔
Taliban Agriculture Minister on India:
— Shashank Mattoo (@MattooShashank) July 10, 2026
It feels as if I am among my own people. It feels like our own country. The people of India and Afghanistan have one DNA. pic.twitter.com/X3FU1LliJz
اس نظریاتی سلسلے کی کڑیاں اسرائیل سے بھی ملتی ہیں، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کو فادر لینڈ اور بھارت کو مدر لینڈ قرار دے چکے ہیں۔ اب طالبان حکومت کو اسی نظریاتی سلسلے کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی طالبان کو سیاسی قبولیت اور سفارتی حیثیت دینے کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔
سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کسی تاریخی یا ثقافتی رشتے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تشدد، طاقت کے وحشیانہ استعمال اور مشترکہ سیاسی مفادات پر استوار ہیں۔ یہ وہی بھارت ہے جو ماضی میں اقوام متحدہ کے ہر فورم پر طالبان کو باقاعدہ دہشت گرد قرار دیتا رہا، مگر اب اپنے سیاسی مفادات کے لیے طالبان وفود کا سرخ قالین پر خیرمقدم کر رہا ہے۔
اس ناپاک گٹھ جوڑ کے پیچھے باہمی مفادات کا ایک گہرا نظام کام کر رہا ہے۔ ایک طرف طالبان خطے میں انتہا پسندی کو ریاستی بیانیے کی شکل دینے کے طریقے سیکھ رہے ہیں، تو دوسری طرف مودی سرکار طالبان کے سخت طرزِ حکمرانی سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس بیانیے کے تحت بھارت، اسرائیل اور طالبان مل کر پاکستان کے خلاف ایک خطرناک اور مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں۔ اس تثلیث میں بھارت سرمایہ اور مالی وسائل فراہم کر رہا ہے، اسرائیل ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون پشِ لفظ رکھ رہا ہے، جبکہ طالبان جنگجوؤں کی دستیابی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق عطا اللہ عمری کا بیان کسی مشترکہ تاریخ کا مظہر نہیں، بلکہ یہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی نظریاتی قربت کا واضح ثبوت ہے۔ اپنے سیاسی و تزویراتی مفادات کی خاطر دونوں ممالک دہشت گردی جیسے حساس اور سنگین مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، جو خطے کے لیے شدید خطرہ ہے۔