افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے افغان جامعات کے آئندہ داخلہ امتحانات میں طالبات کی شرکت پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جلد ہی سرکاری جامعات میں داخلے کے لیے کانکور (یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ) امتحان منعقد ہونے جا رہا ہے، تاہم یہ انتہائی افسوسناک اور غلط ہے کہ نوجوان خواتین کو اس اہم تعلیمی عمل میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے افغان خواتین پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بتدریج بند کیے جا چکے ہیں۔ ملک میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول اور جامعات جانے پر مکمل پابندی عائد ہے، جس کے باعث لاکھوں طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
#Afghanistan will soon hold the entrance examination (konkor) for public universities. It is sad and wrong that young women will not be allowed to participate.
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) July 10, 2026
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق طالبان دور میں خواتین کو نہ صرف اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ انہیں سرکاری و نجی شعبوں میں روزگار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ خواتین کے پارکوں، تجارتی مراکز اور اکیلے سفر کرنے پر عائد پابندیوں کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق پر مسلسل قدغنیں لگانے اور انہیں معاشرتی دھارے سے الگ کرنے کی پالیسیوں کے باعث تاحال کسی بھی ملک نے افغان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے۔ زلمے خلیل زاد کا حالیہ بیان اسی عالمی تشویش کا تسلسل ہے جو افغان خواتین کی حالتِ زار پر ظاہر کی جا رہی ہے۔