"> آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین، نمازِ جنازہ روضہ امام رضا میں ادا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا

ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں الوداعی سفر کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں نمازِ جنازہ ادا کر کے روضہ امام رضا میں تدفین کر دی گئی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین

آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین۔ ایران اور عراق میں تعزیتی جلوسوں کے بعد جسدِ خاکی روضہ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک۔

July 10, 2026

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم اور پھر عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں زیارت کے بعد دوبارہ ایران کے شہر مشہد لایا گیا ہے، جہاں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں روضہ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مشہد مقدس میں امام رضا کے روضے کے احاطے میں ادا کی جانے والی اس تاریخی نمازِ جنازہ میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی اور اپنے محبوب لیڈر کے لیے رقت آمیز مناظر کے دوران دعائے مغفرت کی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے کی، جبکہ ان کے دیگر بھائی بھی پہلی صف میں موجود تھے۔ تاہم، اس موقع پر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں تھے۔ اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں جنازہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی پڑھائیں گے، لیکن آخری وقت پر نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔

ایران کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس چھ روزہ آخری رسومات اور الوداعی جلوسوں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 10 لاکھ سے 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی، جسے ملکی اور عالمی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ اور عوامی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔

ان تاریخی تعزیتی مراسم اور آخری سفر کے دوران مختلف ممالک کے سربراہوں، وزراء، اعلیٰ سفارتی حکام سمیت ایران کے علاقائی اتحادیوں کے وفود بھی شریک ہوئے، جن میں غزہ سے حماس اور لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی تحریک کے نمائندے شامل تھے۔

واضح رہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران کے وسط میں واقع ان کی رہائش گاہ پر امریکا اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے، جس کے چار ماہ بعد اب ان کی مشہد مقدس میں باقاعدہ تدفین عمل میں آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *