افغانستان کی موجودہ صورتحال اور مسلسل ہٹ دھرمی کے باعث بین الاقوامی برادری کا کابل انتظامیہ پر صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اب مزید کسی تنبیہ یا انتباہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
عالمی برادری کا مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح اور غیر مبہم رہا ہے کہ افغان سرزمین کو دوبارہ کبھی بھی بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ یا مرکز نہ بننے دیا جائے۔ تاہم، طالبان کی موجودہ قیادت اس سادہ اور واضح نکتے کو سمجھنے یا تسلیم کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے۔
جب ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں طالبان کی اعلیٰ ترین اتھارٹی کسی بھی معقول مشورے، سفارتی کوشش یا بین الاقوامی انتباہ کو یکسر نظر انداز کرتی رہے، تو دنیا کے پاس عملی کارروائی کے سوا آخر کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ مبصرین کے مطابق یہی رویہ کابل کے خلاف سخت اقدامات کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
دیکھیے: نورستان میں این ایم ایف کا طالبان اور ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ