لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

المرصاد کا بیانیہ بے نقاب: طالبان کو ثالث دکھانے کی کوششیں یو این رپورٹ نے ناکام بنا دیں

افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے وعدوں کی خلاف ورزی، اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کو پناہ گاہوں اور ماہانہ لاکھوں افغانی کی مالی امداد کی فراہمی کے انکشافات۔
المرصاد کا منافقانہ بیانیہ بے نقاب: افغان طالبان کو 'ثالث' دکھانے کی کوششیں یو این رپورٹ نے ناکام بنا دیں

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے خفیہ روابط بے نقاب، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کابل حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کو مالی و لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کی تصدیق۔

July 20, 2026

افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان کے درمیان خود کو غیر جانبدار ثالث ظاہر کرنے کی کوششوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان میڈیا ادارے المرصاد اور دیگر حلقوں کی جانب سے کابل حکومت کے کردار کو امن کے خواہاں کے طور پر پیش کرنے کا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم حقائق بتاتے ہیں کہ افغان طالبان پاکستان سے کیے گئے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کی پشت پناہی میں مصروف ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق کابل پر قبضے سے قبل 2021 میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی، القاعدہ کمانڈروں اور حافظ گل بہادر گروپ کے مابین ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ان عسکری گروہوں کے درمیان باہمی تعاون کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اگرچہ نومبر 2021 میں طالبان حکومت نے پاکستان کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ امن مذاکرات سے انکار کرنے والے ٹی ٹی پی کے دھڑوں کے خلاف سخت عسکری کارروائی کرے گی، لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سرگرم ہے بلکہ وہاں محفوظ پناہ گاہوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کو منظم کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 15ویں اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ایک عسکری یا دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے ساتھ گہرے نظریاتی اور تنظیمی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کابل پر قبضے کے فوراً بعد ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے افغان طالبان کے امیر سے وفاداری کا حلف لیا تھا، جس کے بعد اس گٹھ جوڑ کو مزید تقویت ملی۔ اقوامِ متحدہ کی 35ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خاندان کو ماہانہ تقریباً 43 ہزار ڈالر (30 لاکھ افغانی) کی باقاعدہ مالی امداد فراہم کر رہی ہے، جبکہ تنظیم کو لاجسٹک اور آپریشنل معاونت بھی حاصل ہے۔

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل 2022 میں جب پاکستان نے افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع سپیرہ میں عسکریت پسندوں پر فضائی کارروائی کی، تو افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب مجاہد نے حافظ گل بہادر سمیت فتح گروپ کی قیادت کو طلب کر کے حملے روکنے کا کہا۔ تاہم، گل بہادر نے انہیں میر علی معاہدے کی دستاویز دکھائی، جس میں افغان طالبان کی جانب سے عسکری گروہوں کی غیر مشروط حمایت کا ذکر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گل بہادر گروپ نے 2021ء کے بعد سے افغان صوبوں میں مقامی حکام کی مدد سے اپنے مراکز کو مزید مضبوط کیا ہے۔

علاوہ ازیں، 2022ء میں کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب نے غیر ملکی جنگجوؤں کو بین الاقوامی نگرانی سے بچانے کے لیے دور دراز علاقوں میں منتقل کیا۔ اس معاملے پر ملا عبدالغنی برادر اور سراج الدین حقانی کے مابین شدید اختلافات بھی سامنے آئے، جہاں حقانی نے اعتراف کیا کہ الظواہری کو کابل میں پناہ امیرِ طالبان ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی براہِ راست رضامندی سے دی گئی تھی۔

حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغان طالبان نے سابق افغان حکومت کے دور میں قید کیے گئے ٹی ٹی پی کے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے انہیں پاکستان کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ کابل حکومت کے اس طرزِ عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اپنے پرانے نظریاتی تعلقات اور عسکری روابط کی اہمیت پاکستان اور عالمی برادری کو دی گئی سیکیورٹی یقین دہانیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *