افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ سال بعد بھی ملک کو سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے اعتبار سے استحکام حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ کابل حکومت کا یہ دعویٰ کہ پورے افغانستان پر اس کا کامل، یکسر اور غیر متنازع کنٹرول قائم ہے، وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کے سامنے غلط ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان مخالف فورسز کی کارروائیاں اب محض چند جغرافیائی خطوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک منظم، مربوط اور مسلسل مزاحمت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں، جس نے متعدد صوبوں میں طالبان کے اقتدار اور ان کی عملداری کو ایک سنجیدہ اور باقاعدہ عسکری چیلنج فراہم کر دیا ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو سب سے نمایاں اور اہم پیشرفت اپوزیشن گروہوں کا جغرافیائی پھیلاؤ اور ان کے درمیان بڑھتا ہوا باہمی تعاون ہے۔ ابتدائی دنوں میں جو مزاحمت صرف پنجشیر یا اندراب کے دشوار گزار علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، اس کا دائرہ کار اب کابل، بغلان، تخار، قندوز، پروان، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بالخصوص بدخشاں جیسے انتہائی اہم صوبوں تک پھیل چکا ہے۔
دیگر علاقوں میں بھی طالبان مخالف سرگرمیوں کا یہ سلسلہ روز بروز تیز ہوتا جا رہا ہے، جس نے طالبان سکیورٹی فورسز کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ہی وقت میں ملکی سطح پر متعدد محاذوں پر کارروائیاں ہونے کی وجہ سے طالبان کو اپنی نفری اور عسکری وسائل مختلف حصوں میں تقسیم کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی عمومی سیکیورٹی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔
سیاسی اور عسکری سطح پر احمد مسعود کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور یاسین ضیا کی افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان قائم ہونے والا عملی اتحاد اس مزاحمت میں ایک نیا روح پرور موڑ ثابت ہوا ہے۔ اپریل 2026میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد سے دونوں تنظیمیں ملکی سطح پر طالبان کے انٹیلی جنس دفاتر، چیک پوسٹوں اور عسکری کیمپوں کو نشانہ بنانے کے لیے متوازی اور مربوط آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 2026میں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ اور سپاہیانِ میہن جیسی نئی مسلح تنظیموں کا منظرِ عام پر آنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مخالفین کا تنظیمی ڈھانچہ محض پرانے چہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مزید وسیع اور غیر مرکزی ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 16رپورٹ سمیت دیگر آزاد ذرائع کے اعداد و شمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان کی تمام تر انسدادِ شورش کارروائیوں کے باوجود مزاحمتی گروہوں کی فیلڈ میں کام کرنے کی صلاحیت برقرار ہے اور ان کے حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔
تزویراتی اور عسکری نقطہ نظر سے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں اس وقت طالبان مخالف مہم کا مرکزی نقطہ بن کر سامنے آیا ہے۔ تاجکستان کی بین الاقوامی سرحد سے قربت، دشوار گزار پہاڑی سلسلے اور مقامی آبادی میں حکومت کے خلاف پنپتے ہوئے جذبات نے اس خطے کو اپوزیشن کے لیے ایک قدرتی اور محفوظ عسکری بیس بنا دیا ہے۔ فروری اور اپریل 2026میں بہارک اور اس کے گردونواح میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد، جولائی 2026میں راغ ڈسٹرکٹ کے طالبان بریگیڈ پر حملے میں متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت اور عسکری سامان کی تباہی کی خبروں نے خطے کی نزاکت کو واضح کر دیا ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر 17جولائی 2026کو سپاہیانِ میہن کی جانب سے یافتل ڈسٹرکٹ کے سیکیورٹی ٹھکانوں پر مربوط حملہ کر کے عارضی قبضہ حاصل کرنا، طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کرنا اور سرکاری عمارتوں پر اپنا پرچم لہرانا 2021کے بعد سے طالبان کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا تزویراتی دھچکا شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بدخشاں کے اندر مزاحمت کاروں کا انٹیلی جنس اور لوجسٹک نظام اب کافی مضبوط ہو چکا ہے۔
تاہم، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف عوامی غم و غصہ اب محض زبانی شکایت یا خاموش ناپسندیدگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ باقاعدہ عمل کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اندرونی دھڑوں میں طاقت کی کشمکش، قومیت کی بنیاد پر کھچاؤ، معاشی ابتری، سابق افغان قومی دفاعی فورسز کے اہلکاروں کی بے روزگاری و غیر یقینی کی صورتِ حال اور انسانی حقوق کے حوالے سے سختیوں نے عام شہریوں اور نوجوانوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہی عوامی محرومی اور غصہ اب اپوزیشن تنظیموں کے لیے نئی بھرتیوں، انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی اور مقامی سطح پر معاونت کی شکل میں ایک بنیادی ایندھن کا کام کر رہا ہے۔ افغان فورسز کے سابق تجربہ کار اہلکاروں، نوجوانوں اور مقامی جنگجوؤں کا ان تنظیموں میں شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ تحریک کو عوام کے ایک بڑے طبقے کی پسِ پردہ یا برائے راست حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ طالبان حکومت کے لیے مسلح مزاحمت کی یہ موجودہ لہر اب ایک عسکری خطرہ بن چکی ہے۔ ہر کامیاب مزاحمتی آپریشن طالبان کے ملک گیر استحکام کے دعووں کی قلعی کھولتا ہے اور حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے محدود معاشی و انسانی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی حکمرانی پر خرچ کرنے کے بجائے صرف اور صرف اندرونی سکیورٹی پر صرف کرے۔
اگر کابل انتظامیہ نے اپنی طرزِ حکمرانی میں تبدیلی نہ لائی، تمام طبقات کو شاملِ اقتدار کرنے کی راہ ہموار نہ کی اور عوام کے بنیادی تحفظ و روزگار کی ضمانت نہ دی، تو شمالی افغانستان بالخصوص بدخشاں کے خطے سے طالبان کی اقتدار پر گرفت تیزی سے کمزور ہو سکتی ہے۔ یہ صورتِ حال اگر یونہی آگے بڑھتی رہی تو افغانستان کو ایک بار پھر کسی طویل، بھیانک اور ہمہ گیر خانہ جنگی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گی، جس کے اثرات نہ صرف خود افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و امان پر انتہائی منفی انداز میں مرتب ہوں گے۔
دیکھیے: بدخشاں میں طالبان کو سخت مزاحمت کا سامنا، فریڈم فرنٹ کا پیش قدمی کا دعویٰ