بھارت میں نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ 25 جولائی کو حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے باوجود احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائیاں جاری ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے معاہدے کی تحریری نقل فراہم نہ کی اور وعدوں پر عمل درآمد نہ کیا تو ملک گیر احتجاج دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
سی جے پی کا مؤقف
کاکروچ پارٹی کے ترجمان سورو داس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ احتجاج سے متعلق تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے، کوئی نیا مقدمہ درج نہیں ہوگا اور طلبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم اس کے برعکس گرفتاریاں، نگرانی اور ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مقررہ وقت تک معاہدے کی تحریری کاپی فراہم نہ کی گئی تو تنظیم احتجاج دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہو گی۔
کاکروچ پارٹی نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل سے متعلق مبینہ خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جائے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پیش کردہ پانچ نکاتی منشور پر عمل کیا جائے۔
گرفتاریوں اور نگرانی کے الزامات
کاکروچ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق بہار اور مغربی بنگال میں سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں طلبہ اور رضاکاروں کو نگرانی اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ ایف آئی آرز فوری واپس لی جائیں اور کوئی نیا مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
کاکروچ پارٹی کی رکن رتنا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ آسام میں 7 سے 8 مقدمات درج کیے گئے، کولکتہ میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 10 مسلمان شامل ہیں اور ان پر اقدامِ قتل سمیت سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں، جبکہ بہار میں 86 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
نئے پلیٹ فارم کا اعلان
کاکروچ پارٹی نے ساکشی کے نام سے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے، جہاں احتجاج کرنے والے افراد پولیس کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کر سکیں گے۔ سینئر وکیل کپل سبال نے بھی احتجاج کرنے والوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے 1 کروڑ بھارتی روپے فراہم کریں گے تاکہ ملک بھر کے وکلا کو طلبہ کی قانونی مدد کے لیے منظم کیا جا سکے۔
کپل سبال نے یہ الزام بھی لگایا کہ دہلی پولیس احتجاج میں شریک افراد کی شناخت کے لیے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا کہ معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دیا جا سکتا ہے۔
24گھنٹے فیصلہ کن
خیال رہے کہ 2 روز قبل ہی حکومت اور کاکروچ پارٹی کے درمیان تین ادوار کے مذاکرات کے بعد احتجاج عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ 25 جولائی کے معاہدے پر اعتماد تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے یہ طے کریں گے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا ملک بھر میں احتجاج کی نئی لہر شروع ہوتی ہے۔
دیکھیے: حکومت سے کامیاب مذاکرات، کاکروچ پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا