لاہور میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران اشتیاق کے معاملے نے سیاسی اور مذہبی بیانیے کو ایک ساتھ نمایاں کردیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اشتیاق کو ’’عاشقِ رسول‘‘ قرار دیے جانے کے بعد سیاسی سرگرمی میں مذہبی جذبات کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے۔
اشتیاق کے اہلِ خانہ سے منسوب بیان کے مطابق مشکل وقت میں پنجاب پولیس نے خاندان کے ساتھ تعاون کیا، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔
چوری کے کیس میں قید چور کو رہا کرانے کےلئے سہیل افریدی کا اسلامی ٹچ۔۔۔ pic.twitter.com/ruqb6mTluF
— jamshed khan (@JKhanReal) September 14, 2026
اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ اگر خاندان مشکل وقت میں سرکاری اداروں سے تعاون حاصل کرتا رہا تو بعد میں اس معاملے کو سیاسی اور مذہبی رنگ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مشکل وقت میں پارٹی کہاں تھی؟
اشتیاق کے معاملے میں بنیادی سوال اس کے اہلِ خانہ کی مشکلات اور انہیں ملنے والی مدد سے متعلق ہے۔ اگر اہلِ خانہ کے مطابق پنجاب پولیس نے تعاون کیا اور پارٹی کی جانب سے مدد نہیں کی گئی تو سیاسی قیادت کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ مشکل وقت میں پارٹی کارکن اور اس کے خاندان کے ساتھ کیوں کھڑی نہیں ہوئی۔
اس کے بجائے اشتیاق کو ’’عاشقِ رسول‘‘ قرار دے کر معاملے کو مذہبی جذبات سے جوڑنے سے اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ کسی مسلمان کی رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کو سیاسی جماعت یا سیاسی سرگرمی کے ساتھ جوڑنا بھی حساس معاملہ ہے، کیونکہ محبتِ رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
مذہب اور سیاست
سیاسی اختلاف یا پارٹی کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب مذہبی جذبات کے ذریعے نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کارکنوں یا ان کے خاندانوں سے متعلق کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی وضاحت سیاسی قیادت کو دینی چاہیے۔
اشتیاق کے معاملے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ خاندان کی عملی مدد کس نے کی اور بعد میں افسوس کی ویڈیو کس نے 27 ستمبر کے سیاسی بیانیے کے ساتھ جاری کی؟ اگر ایک ہی واقعے کو بعد میں سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے مقاصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
سیاسی بیانیہ
خیبر پختونخوا پہلے ہی امن و امان اور گورننس کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صوبے کے انتظامی معاملات پر توجہ دیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
سیاسی سرگرمیوں میں مذہبی جذبات کو شامل کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ سیاسی قیادت کارکنوں کے مسائل، عوامی مشکلات اور حکومتی کارکردگی پر واضح جواب دے۔ عقیدت اور مذہب کو سیاسی اختلافات کا جواب بنانے سے بنیادی سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔