پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں سے جاری معرکے کو محض ایک روایتی عسکری جھڑپ سمجھنا زمینی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتنۃ الخوارج نے اپنے آغاز کے پہلے دن سے ہی اپنی اصل جنگ ریاست کے ساتھ ساتھ اُس مستند دینی بیانیے کے خلاف چھیڑ رکھی ہے جو ان کے پرتشدد، تکفیری اور خودکش کلچر کو قرآن و سنت کی روشنی میں باطل ثابت کرتا ہے۔ ریاستی ادارے اور معصوم شہری بلا شبہ خوارج کی بربریت کا شکار رہے ہیں، مگر جس طبقے کے فکری وجود سے خوارج کے ہاتھ پاؤں پھولتے رہے ہیں، وہ مسندِ تدریس اور منبر و محراب پر بیٹھے ہمارے جید علمائے کرام ہیں۔ یہ وہ باعمل اہلِ علم تھے جنہوں نے بندوق کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر دلیل کے ساتھ خوارج کے تکفیری نظریے کی دھجیاں بکھیریں۔
خوارج کی سب سے بڑی گمراہی اور فکری بوکھلاہٹ یہ ہے کہ وہ دین کی اپنی تنگ نظر اور خود ساختہ تشریح کو ہی شریعت کا واحد حتمی ورژن مانتے ہیں۔ جو فقیہ یا شیخ الحدیث ان کی گمراہی کی نشاندہی کرے یا مسلمانوں کی تکفیر اور ریاستی اداروں کے خلاف خونی بغاوت کو فساد فی الارض قرار دے، اسے یہ عناصر فوراً واجب القتل ٹھہرا دیتے ہیں۔ جب خوارج کے پاس علمی دلائل کا کوئی جواب نہیں بن پاتا، تو وہ اپنے اندرونی کھوکھلے پن کو چھپانے کے لیے خودکش حملہ آوروں اور بزدلانہ گولیوں کا سہارا لیتے ہیں۔
شیخ حسن جان رح
اس خونی سلسلے کا سب سے المناک باب 17 ستمبر 2007 کو پشاور میں رقم ہوا، جب ہزاروں علماء کے استاذ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کے بعد اس عظیم مسند پر فائز رہنے والے جید بزرگ عالم مولانا حسن جان کو نشانہ بنایا گیا۔ 5 جنوری 1938 کو چارسدہ کے علاقے پڑانگ یاسین زئی میں آنکھ کھولنے والے مولانا حسن جان نے بعد ازاں مسجد درویش پشاور میں اپنی درسگاہ قائم کی۔ وہ جامعہ امداد العلوم پشاور صدر کے سرپرست، وفاق المدارس کے نائب صدر، جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی تھے۔
ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے دو ٹوک شرعی فتویٰ دیا کہ خودکش حملے اور بے گناہ انسانوں کا قتل شریعتِ محمدیؐ میں صریح حرام ہے۔ شدت پسند تنظیموں اور افغان طالبان کی سخت مخالفت کے باوجود وہ اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے۔ خوارج نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں، افطار کے قریب، وزیر باغ میں ایک نکاح پڑھا کر نکلتے ہوئے گھات لگا کر فائرنگ کی اور امت کو اس عظیم علمی چراغ سے محروم کر دیا۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی رح
خوارج کی نفرت کا نشانہ مسالک کی حدود کا پابند نہیں۔ جامعہ نعیمیہ لاہور کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی پاکستان کے معتبر ترین دینی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ جب سوات اور قبائلی علاقوں میں طالبان نے اسلام کے نام پر خون کی ندیاں بہائیں، تو ڈاکٹر نعیمی نے تمام مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے شدت پسندی کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور خودکش حملہ آوروں کو جہنمی قرار دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 12 جون 2009 کو خوارج نے مدرسے اور مسجد کی حرمت پامال کرتے ہوئے ان پر خودکش حملہ کر دیا، جس میں وہ اپنے متعدد رفقاء سمیت شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ خوارج کا مقصد کسی مسلک کا دفاع نہیں بلکہ اسلام کے پرامن چہرے کو مسخ کرنا ہے۔
مولانا حامد الحق حقانی رح
مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور جے یو آئی (س) کے سربراہ بننے والے مولانا حامد الحق حقانی نے ہمیشہ شریعت کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ مئی 1968 میں پیدا ہونے والے اور 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہنے والے مولانا حامد الحق نے فروری 2025 میں رابطہ عالمِ اسلامی کی ایک عالمی کانفرنس کے اندر خواتین کی تعلیم کے حق میں دو ٹوک مؤقف اپنایا۔ یہ مؤقف خوارج کے انتہاپسندانہ جمود پر براہِ راست ضرب تھا۔ چنانچہ 28 فروری 2025 کو نمازِ جمعہ کے بعد مسجد کے دروازے پر ایک خودکش حملہ آور ان سے بغلگیر ہوا اور خود کو اڑا دیا۔ اس بزدلانہ حملے میں مولانا حامد الحق سمیت 8 نمازی شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔
پیر ابراہیم اور مولانا خان زیب رح
خوارج نے صرف دارالافتاء کے سربراہوں کو ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر انتہاپسندی کی مزاحمت کرنے والے صوفیاء اور سیاسی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا۔ چارسدہ کی تحصیل تنگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز روحانی رہنما پیر ابراہیم کو 21 جولائی 2025 کو فتنۃ الخوارج نے فائرنگ کر کے شہید کیا، کیونکہ وہ خطے میں انتہاپسندی کے خلاف عوامی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ اسی طرح باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں 10 جولائی 2025 کو اے این پی کے رہنما اور دینی شخصیت مولانا خان زیب کو شہید کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ خوارج ہر اس آواز کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں جو معاشرے کو ان کے خونخوار بیانیے کے خلاف متحرک کرتی ہے۔
شیخ الحدیث ادریس ترنگزئیؒ
علمی شخصیات کے قتل کا یہ وحشیانہ تسلسل 6 مئی 2026 کو اس وقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا جب چارسدہ کے نامور عالم اور ممتاز استاد شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو نشانہ بنایا گیا۔ 1961 میں ترنگزئی میں پیدا ہونے والے مولانا ادریس نے دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی اور حقانیہ سے فراغت کے بعد پشاور یونیورسٹی سے عربی و اسلامیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1983 سے 1997 تک جامعہ نعمانیہ میں تدریس کی اور بعد ازاں دارالعلوم اسلامیہ تنگی میں مسلسل 9 سال تک دورہ حدیث پڑھاتے رہے۔ وہ جے یو آئی کے سرکردہ رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی بھی رہے، جن کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
مولانا ادریس ترنگزئی اپنے گھر سے درسِ حدیث کے لیے نعمانیہ اتمانزئی جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برسا کر انہیں شہید اور ان کے دو محافظ اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کے ڈانڈے بھی بیرونِ ملک سے آپریٹ ہونے والے دہشت گرد نیٹ ورکس سے ملے۔ ان کے جنازے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مولانا عطا الرحمان سمیت ہزاروں سوگواروں کی شرکت نے ثابت کیا کہ عوام اور دینی حلقے کس قدر اپنے اساتذہ اور اسلاف سے جڑے ہوئے ہیں۔
سافٹ ٹارگٹس
دفاعی اور فکری تجزیہ کاروں کے مطابق جب سکیورٹی فورسز نے آپریشنز کے ذریعے خوارج کے ٹھکانوں اور گڑھ کو تباہ کر دیا، تو براہِ راست لڑائی سے بھاگ کر انہوں نے معتبر، بااثر لیکن غیر مسلح شخصیات کو آسان شکار بنانا شروع کیا۔ اس کے پیچھے خوارج کے دو مکروہ عزائم کارفرما ہیں:
دہشت اور خوف کی فضا: معاشرے اور مساجد کے منبر پر ایسا خوف مسلط کرنا کہ کوئی بھی مفتی یا خطیب ان کے فکری انحراف کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہ کر سکے۔
فکری و دینی خلا پیدا کرنا: معتبر علماء کو راستے سے ہٹانا تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور اپنے خودکش و تکفیری نظریے کو بغیر کسی مزاحمت کے عام کرنے کی جگہ مل سکے۔
خوارج نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ علماء کو شہید کر کے وہ دین کے بیانیے کو اغوا کر لیں گے، مگر تاریخ نے ہر بار ان کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کیا۔ مولانا حسن جان سے لے کر شیخ ادریس ترنگزئی تک۔۔۔۔ یہ شہداء محض نام نہیں بلکہ اسلامی شعور، اعتدال اور حق گوئی کے استعارے ہیں۔ جس دن خوارج نے ان بزرگوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی، اسی دن ان کے لاکھوں شاگردوں اور طلباء نے ان کی چھوڑی ہوئی دلیل کو سینے سے لگا کر ان کے مشن کو دوگنی طاقت سے آگے بڑھایا۔
ریاست، معاشرے اور تمام دینی مکاتبِ فکر کا اب یہ مشترکہ اخلاقی و ملی فریضہ ہے کہ ان شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہ ہونے دیا جائے۔ خوارج کے خلاف یہ جنگ محض بارود سے نہیں جیتی جا سکتی؛ یہ جنگ اس وقت جیتی جائے گی جب ہر مدرسے، ہر جامعہ اور ہر منبر سے تکفیریت اور انتہاپسندی کے خلاف وہی مدلل آواز گونجے گی جس کے لیے ہمارے اکابر علماء نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔
دیکھیے: ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد جہاد نہیں، بغاوت ہے: 1,800 علماء کا متفقہ فتویٰ