یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تیز پیش قدمی کی ہے۔ اس کارروائی کے دوران انہوں نے دو اہم جزیروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگجوؤں نے گریٹر حنیش اور لیسر حنیش جزیروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے باب المندب کے قریبی بحری راستوں پر ان کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔
تاہم سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز دوبارہ منظم ہو کر جوابی تیاری کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ حوثی پہلے ہی ساحلی شہر موخا اور میون جزیرے پر قابض ہو چکے ہیں۔
عالمی تجارت پر اثرات
باب المندب دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تھی، اس لیے سعودی عرب نے تیل کی سپلائی بحیرہ احمر کی طرف منتقل کی تھی۔
لہٰذا ان دو جزیروں پر قبضے کے بعد سعودی خام تیل کی برآمدات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حوثی اس سے قبل بھی تیل کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
انسانی بحران اور بڑھتی کشیدگی
جنگ کے پھیلاؤ سے یمن میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ کیونکہ حالیہ لڑائی کی وجہ سے ہزاروں معصوم شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن اب تک اس سمندری راستے پر کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی حل سامنے نہیں آ سکا۔
دیکھیے: حوثیوں کا میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب پر گرفت مضبوط ہونے کا دعویٰ