ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف جیت کے بعد ایک بار پھر بھارتی کرکٹ کا منفی چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ میدان میں فتح سمیٹنے والی بھارتی ویمنز ٹیم نے تقریبِ تقسیمِ انعامات میں ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ محض ایک تقریب کا بائیکاٹ نہیں بلکہ کھیل کی بنیادی روح، وقار اور بین الاقوامی اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلی تذلیل ہے۔
سیاست زدہ ذہنیت کا تسلسل
بھارتی کرکٹ کا یہ رویہ کوئی پہلا یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ 2025 کے ایشیا کپ فائنل میں بھی بھارتی ٹیم نے ایسے ہی بچگانہ اور غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر اے سی سی سے ٹرافی وصول کرنے سے گریز کیا تھا۔ میدان میں ہاتھ نہ ملانے کی دانستہ کوششیں ہوں یا بین الاقوامی کونسل کے سربراہ کی توہین، بھارتی بورڈ اور ٹیم ہمیشہ سیاسی آقاؤں کی خوشنودی کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ جب ایک کھلاڑی جرسی پہن کر میدان میں اترتا ہے تو وہ کھیل کی اقدار کا پابند ہوتا ہے، لیکن بھارتی قیادت نے اپنے کھلاڑیوں کو سیاسی بغض اور ہٹ دھرمی کا آلہ کار بنا کر رکھ دیا ہے۔
ایشین کرکٹ کونسل کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کونسل نے اپنے طے شدہ عالمی پروٹوکول کو برقرار رکھا اور ٹرافی بدستور موجود تھی۔ تقریب میں پیدا ہونے والا تعطل درحقیقت نئی دہلی کی تنگ نظری اور ایک طرفہ رکاوٹ کا نتیجہ تھا۔ محسن نقوی تقریب میں بطور پاکستانی وزیر نہیں بلکہ خطے میں کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے کے منتخب سربراہ کی حیثیت سے موجود تھے۔ بین الاقوامی فورمز پر اپنے ہی براعظمی سربراہ کو تسلیم نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کھیل کے عالمی ضوابط کو ردی کا ٹکڑا سمجھتی ہے۔
دوہرے معیارات اور تاریخ کا آئینہ
بھارت کی جانب سے کھیل میں سیاست کا زہر گھولنے کی تاریخ طویل ہے۔ 2008 کے بعد سے مسلسل دوطرفہ سیریز سے فرار ہو، یا 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کر کے میچز دبئی منتقل کرانے کا ڈراما، بھارت نے ہمیشہ کرکٹ ڈپلومیسی کا گلا گھونٹا ہے۔ ایک طرف بھارتی بورڈ خود کو کرکٹ کی سپر پاور کہلواتا ہے، دوسری طرف معمولی پروٹوکول اور شکست خوردہ ذہنیت کے تحت ٹرافی وصول کرنے سے ڈرتا ہے۔ اگر بھارت کو کسی ادارے کے سربراہ سے اس قدر تکلیف ہے تو وہ ایشین کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں شرکت کا ڈھونگ کیوں رچاتا ہے؟
کرکٹ محض چوکوں، چھکوں اور ٹرافیاں اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ حریف کا احترام کرنے اور بین الاقوامی سفارتی آداب نبھانے کا تقاضا کرتی ہے۔ فائنل جیت کر بھی ٹرافی لینے سے منہ پھیر لینا کامیابی نہیں بلکہ سفارتی اور اخلاقی پسماندگی کی انتہا ہے۔ بھارتی کرکٹ جس ڈگر پر چل نکلی ہے، وہ نہ صرف خطے میں کرکٹ کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ کھیل کی عالمی گورننگ باڈیز کب تک بھارت کے اس متعصبانہ اور گھمنڈی رویے کے آگے خاموش تماشائی بنی رہیں گی۔
دیکھیے: نئے صوبے آخر کیوں ضروری ہیں؟