ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔

September 16, 2026

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

September 16, 2026

مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ڈرون حملے میں کالعدم بی ایل اے کے 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

September 16, 2026

پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا

پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض ادا کر دیا ہے، جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے چند ہفتوں میں قرض کی دوبارہ فنانسنگ کی امید ظاہر کی ہے۔
پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا

پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کمیٹی کو بیرونی ادائیگیوں اور رول اوور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

July 30, 2026

پاکستان نے چین سے حاصل کردہ 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ چینی بینک چند ہفتوں میں اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ کر دیں گے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید استحکام ملنے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ جولائی کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے ہیں۔ اس میں چین کا کمرشل قرض اور 80 کروڑ ڈالر دیگر بیرونی واجبات شامل ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق چین سے قرض کی دوبارہ فراہمی میں معمولی تاخیر متوقع ہے، تاہم یہ رقم آئندہ چند ہفتوں کے دوران دوبارہ موصول ہو جائے گی۔ گزشتہ تین برسوں میں اسٹیٹ بینک نے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے اوپن مارکیٹ سے 28 ارب ڈالر خریدے ہیں، جس سے بیرونی مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ مالی سال کے دوران پاکستان پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ پہلے کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔ رواں مالی سال میں مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کا تخمینہ 21.5 ارب ڈالر ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ حجم 26.5 ارب ڈالر تھا، جس میں 3.5 ارب ڈالر سود پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے موجودہ مالی معاونت برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے تحت سعودی عرب اور چین کے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے ڈپازٹس اور قرضوں کے رول اوور کی توقع ہے۔

مرکزی بینک نے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام کے لیے اپنی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا تاکہ قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔

September 16, 2026

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *