افغانستان میں طالبان مخالف مسلح تنظیم افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ قندوز کے فوجی ہوائی اڈے پر درست نشانے والے میزائل حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے طالبان کے عسکری ہیلی کاپٹرز اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی جمعرات 30 جولائی 2026 کی رات 9 بجے انجام دی گئی۔ فریڈم فرنٹ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق طالبان اہلکار کندز ایئرپورٹ سے صوبہ بدخشان روانگی کی تیاری کر رہے تھے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مزاحمتی کارروائیوں میں تسلسل
افغانستان میں یکے بعد دیگرے ہونے والے یہ حملے طالبان مخالف مزاحمت میں نمایاں تیزی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے بھی بدخشان کے ضلع ارگو، کشم میں طالبان کی چوکی پر ہدفی حملے کا دعویٰ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مسلسل کارروائیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طالبان کو صرف انفرادی واقعات نہیں بلکہ مختلف محاذوں پر منظم دباؤ کا سامنا ہے۔
عسکری تنصیبات زد میں
قندوز کے ملٹری ایئرپورٹ پر مبینہ میزائل حملے کو اس امر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ مزاحمتی گروپوں کی رسائی اب محض دشوار گزار علاقوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ طالبان کی بنیادی عسکری تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور فضائی اثاثے بھی ان کے دائرہ کار میں آ چکے ہیں۔
مزاحمتی تنظیموں کے مطابق ان کی سرگرمیاں بدخشان، بغلان، تخار، پنج شیر، قندوز، کاپیسا اور بلخ سمیت متعدد صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔
مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی سخت پالیسیوں، معاشی مشکلات، خواتین کے حقوق پر پابندیوں اور شہری آزادیوں میں کمی کی وجہ سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
تنظیموں کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد رضاکار ان کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں، جو ان کے بقول طالبان کے حکمرانی کے ماڈل کے خلاف عوامی غصے اور منظم مزاحمت کی حمایت کا مظہر ہے۔ طالبان حکام کی جانب سے فی الحال ان تازہ دعوؤں پر کوئی باضابطہ تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔