ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔

September 16, 2026

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

September 16, 2026

مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ڈرون حملے میں کالعدم بی ایل اے کے 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

September 16, 2026

طالبان مخالف مزاحمت میں شدت، افغانستان فریڈم فرنٹ کا قندوز ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت تیز ہو گئی ہے؛ فریڈم فرنٹ نے قندوز ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کر کے عسکری اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان میں مسلح مزاحمت تیز، طالبان کا عسکری اڈہ نشانے پر

افغانستان فریڈم فرنٹ کا قندوز فوجی ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ، طالبان کی عسکری تنصیبات کو نیا چیلنج۔

July 31, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح تنظیم افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ قندوز کے فوجی ہوائی اڈے پر درست نشانے والے میزائل حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے طالبان کے عسکری ہیلی کاپٹرز اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی جمعرات 30 جولائی 2026 کی رات 9 بجے انجام دی گئی۔ فریڈم فرنٹ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق طالبان اہلکار کندز ایئرپورٹ سے صوبہ بدخشان روانگی کی تیاری کر رہے تھے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مزاحمتی کارروائیوں میں تسلسل

افغانستان میں یکے بعد دیگرے ہونے والے یہ حملے طالبان مخالف مزاحمت میں نمایاں تیزی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے بھی بدخشان کے ضلع ارگو، کشم میں طالبان کی چوکی پر ہدفی حملے کا دعویٰ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان مسلسل کارروائیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طالبان کو صرف انفرادی واقعات نہیں بلکہ مختلف محاذوں پر منظم دباؤ کا سامنا ہے۔

عسکری تنصیبات زد میں

قندوز کے ملٹری ایئرپورٹ پر مبینہ میزائل حملے کو اس امر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ مزاحمتی گروپوں کی رسائی اب محض دشوار گزار علاقوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ طالبان کی بنیادی عسکری تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور فضائی اثاثے بھی ان کے دائرہ کار میں آ چکے ہیں۔

مزاحمتی تنظیموں کے مطابق ان کی سرگرمیاں بدخشان، بغلان، تخار، پنج شیر، قندوز، کاپیسا اور بلخ سمیت متعدد صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔

مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی سخت پالیسیوں، معاشی مشکلات، خواتین کے حقوق پر پابندیوں اور شہری آزادیوں میں کمی کی وجہ سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

تنظیموں کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد رضاکار ان کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں، جو ان کے بقول طالبان کے حکمرانی کے ماڈل کے خلاف عوامی غصے اور منظم مزاحمت کی حمایت کا مظہر ہے۔ طالبان حکام کی جانب سے فی الحال ان تازہ دعوؤں پر کوئی باضابطہ تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

ٹوٹے راستے، غیر محفوظ اسکول اور ناقص نکاسی آب، عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات پر کڑی تنقید۔

September 16, 2026

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

September 16, 2026

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

September 16, 2026

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

September 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *