افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی سلسلہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ذبیح اللہ امیری اور دیگر اہم رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب طالبان کی فوج کے سربراہ (آرمی چیف) جنرل فصیح الدین فطرت کی رہائش گاہ پر بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ضلع وردوج کے گاؤں استراب میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے قریبی پہاڑی سے آرمی چیف کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت جنرل فصیح الدین فطرت گھر میں موجود تھے یا نہیں۔
بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پی کے مشین گنوں سمیت ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ رہائش گاہ پر تعینات طالبان محافظوں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم واقعے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
مزاحمتی شدت
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بدخشاں میں طالبان کے اہم حکام اور رہنما مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ چند روز قبل بدخشاں میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
ذبیح اللہ امیری اور دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے میں طالبان کی انتظامی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور ان کے خلاف منظم کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں۔
مزاحمتی سلسلہ
بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی تحرک میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سپاہِ میہن فرنٹ نے ضلع یفتل پر مختصر وقت کے لیے قبضے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے بھی ضلع زیبک میں طالبان کی عسکری پوزیشنوں پر حملے کیے۔
ان مسلسل حملوں کے بعد طالبان آرمی چیف جنرل فصیح الدین فطرت خود صورتحال پر قابو پانے کے لیے بدخشان پہنچے تھے اور عسکری کارروائیوں کی خود نگرانی کر رہے تھے۔ تاہم ان کی اپنی رہائش گاہ پر حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور سکیورٹی صورتحال شدید تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔