لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بدخشاں: طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملہ، مزاحمت میں اضافہ

بدخشاں میں ذبیح اللہ امیری کی ہلاکت کے بعد طالبان کے آرمی چیف جنرل فصیح الدین فطرت کے گھر پر حملہ ہوا ہے، جو خطے میں بڑھتی مزاحمت کا اشارہ ہے۔
بدخشاں: طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملہ

بدخشاں میں طالبان کے آرمی چیف جنرل فصیح الدین فطرت کی رہائش گاہ پر حملہ۔ ذبیح اللہ امیری کی ہلاکت کے بعد طالبان کے خلاف بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت تیز۔

July 31, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی سلسلہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ذبیح اللہ امیری اور دیگر اہم رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب طالبان کی فوج کے سربراہ (آرمی چیف) جنرل فصیح الدین فطرت کی رہائش گاہ پر بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ضلع وردوج کے گاؤں استراب میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے قریبی پہاڑی سے آرمی چیف کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت جنرل فصیح الدین فطرت گھر میں موجود تھے یا نہیں۔

بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پی کے مشین گنوں سمیت ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ رہائش گاہ پر تعینات طالبان محافظوں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم واقعے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

مزاحمتی شدت

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بدخشاں میں طالبان کے اہم حکام اور رہنما مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ چند روز قبل بدخشاں میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ذبیح اللہ امیری اور دیگر رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے میں طالبان کی انتظامی گرفت کمزور ہو رہی ہے اور ان کے خلاف منظم کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں۔

مزاحمتی سلسلہ

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی تحرک میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سپاہِ میہن فرنٹ نے ضلع یفتل پر مختصر وقت کے لیے قبضے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے بھی ضلع زیبک میں طالبان کی عسکری پوزیشنوں پر حملے کیے۔

ان مسلسل حملوں کے بعد طالبان آرمی چیف جنرل فصیح الدین فطرت خود صورتحال پر قابو پانے کے لیے بدخشان پہنچے تھے اور عسکری کارروائیوں کی خود نگرانی کر رہے تھے۔ تاہم ان کی اپنی رہائش گاہ پر حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے اور سکیورٹی صورتحال شدید تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *