راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے لاپتا افراد کے حساس معاملے پر حقائق کو روشن کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس موضوع کو مسلسل ریاست کے خلاف پروپیگنڈے اور من گھڑت بیانیے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاپتا قرار دیے جانے والے بیشتر افراد خود دہشت گردانہ اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق جن افراد کو مسنگ پرسنز بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثریت سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز یا فتنہ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کی طرف سے لڑتے ہوئے جنگی میدان میں ماری جاتی ہے۔ مزید برآں، کئی واقعات میں گرفتار ہونے والے عناصر خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ملک میں تخریب کاری، بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ حکومت نے اس معاملے کی شفافیت کے ساتھ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک مستقل اور بااختیار کمیشن قائم کر رکھا ہے۔ اس کمیشن کے نمائندے ہر ضلع میں موجود ہیں جو موصول ہونے والی ہر درخواست اور کیس کی مکمل آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جانچ پڑتال کرتے ہیں۔
ترجمان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آئینی اور قانونی فورمز کی موجودگی کے باوجود حقوق کی پاسداری کا جھوٹا واویلا مچا کر بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک ریاست مخالف عناصر اس معاملے کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا اور اصل حقیقت یعنی ان افراد کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شمولیت سے عوام کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور طالبان کا مستقبل