لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

لاپتہ افراد کمیشن موجود، پھر واویلا کیوں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاپتا افراد کے معاملے کو پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر نامزد عناصر آپریشنز کے دوران مارے جاتے ہیں۔
لاپتہ افراد کمیشن موجود، پھر واویلا کیوں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر

لاپتا افراد کا معاملہ: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مسنگ پرسنز کا واویلا پراپیگنڈا ہے، بیشتر عناصر سیکیورٹی آپریشنز میں مارے جاتے ہیں۔

July 31, 2026

راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے لاپتا افراد کے حساس معاملے پر حقائق کو روشن کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس موضوع کو مسلسل ریاست کے خلاف پروپیگنڈے اور من گھڑت بیانیے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاپتا قرار دیے جانے والے بیشتر افراد خود دہشت گردانہ اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق جن افراد کو مسنگ پرسنز بنا کر پیش کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثریت سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز یا فتنہ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں کی طرف سے لڑتے ہوئے جنگی میدان میں ماری جاتی ہے۔ مزید برآں، کئی واقعات میں گرفتار ہونے والے عناصر خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ملک میں تخریب کاری، بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے سنگین جرائم میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ حکومت نے اس معاملے کی شفافیت کے ساتھ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک مستقل اور بااختیار کمیشن قائم کر رکھا ہے۔ اس کمیشن کے نمائندے ہر ضلع میں موجود ہیں جو موصول ہونے والی ہر درخواست اور کیس کی مکمل آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جانچ پڑتال کرتے ہیں۔

ترجمان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آئینی اور قانونی فورمز کی موجودگی کے باوجود حقوق کی پاسداری کا جھوٹا واویلا مچا کر بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک ریاست مخالف عناصر اس معاملے کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا اور اصل حقیقت یعنی ان افراد کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شمولیت سے عوام کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور طالبان کا مستقبل

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *