پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے تحت ہتھیاروں میں کمی کے عمل پر عمل درآمد کے لیے بورڈ آف پیس کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اہم اقدام خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
پاکستان نے اس پیش رفت کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے والے ثالثی ملکوں بالخصوص امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی مسلسل اور پرخلوص کوششوں کو سراہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں یہ پیش رفت بورڈ آف پیس کے لیے ایک بڑی اور اہم کامیابی کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس اہم پیش رفت کے بعد غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام دیگر وعدوں پر بھی شفاف اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
دفترِ خارجہ نے تاکید کی کہ یہ تمام تر کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں۔ یہ عمل بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی فریم ورک کے تحت مکمل ہونا چاہیے۔
پاکستان نے اپنے بنیادی اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی عمل کا حتمی نتیجہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں نکلنا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
دیکھیے: بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل