امریکی تحقیقی ادارے فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے۔ جولائی کے آخری دو ہفتوں میں ہونے والے ان حملوں کے باعث طالبان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جریدے لانگ وار جرنل کے مطابق 17 جولائی کو مزاحمتی گروپ سپاہیانِ میہن نے یفتلِ سفلی کے ضلعی ہیڈکوارٹر پر حملہ کر کے عارضی قبضہ کر لیا۔ اگست 2021 میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ضلعی مرکز سے ان کا کنٹرول ختم ہوا۔
طالبان حکام نے عارضی قبضے کی تصدیق کی لیکن دعویٰ کیا کہ حملے کے وقت حکام وہاں موجود نہیں تھے اور بعد میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری جانب مزاحمتی گروپ کے سربراہ قیوم ملنگ نے گرفتاریوں کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 23 جولائی کو افغانستان فریڈم فرنٹ نے زیبک ضلع میں چوکیاں چھیننے کا دعویٰ کیا۔ اسی روز احمد مسعود کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی کران و منجان میں ایک چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
امریکی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان گروہوں کے درمیان باقاعدہ مشترکہ آپریشنز کے شواہد نہیں ملے، لیکن ان کے بڑھتے رابطے مستقبل میں بڑے تعاون کی نشاندہی کرتے ہیں اور بدخشاں اب مزاحمت کا نیا مرکز بن رہا ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملہ، مزاحمت میں اضافہ