خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت کی پالیسیوں اور ترجیحات پر سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ بنیادی عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف بڑے سیاسی جلسوں کے انعقاد اور عوام کا ہجوم اکٹھا کرنے پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق صوبائی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں اور عوام کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہو چکی ہے، جہاں ادویات اور سہولیات کے فقدان کے باعث عام شہریوں کے لیے علاج کا حصول ایک دشوار گزار مرحلہ بن چکا ہے۔
تعلیمی شعبے میں کیے جانے والے دعووں کے باوجود تعلیمی ایمرجنسی کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی اور نہ ہی تعلیمی اداروں کے معیار میں کوئی واضح پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔
اس کے علاوہ صوبے میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بھی شدید جمود کا شکار ہے۔
عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو سیاسی شوز اور نمائش کے بجائے صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
دیکھیے: کبل واقعے پر پی ٹی ایم کی پالیسی؟ ریاست مخالف بیانیے پر شدید تنقید