بین الاقوامی سطح پر معتبر دینی ادارے جامعہ دارالعلوم کراچی نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے حق کی تائید کرتے ہوئے اہم شرعی فتویٰ جاری کر دیا ہے۔
یہ فتویٰ ہری پور افغان کیمپ کی رہائشی ایک مہاجر خاتون کے استفسار پر جاری کیا گیا۔ دارالافتاء دارالعلوم کراچی کی جانب سے دیے گئے تحریری جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام اور شریعت میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کی مخالفت کی کوئی مطلق بنیاد موجود نہیں، بلکہ حصولِ علم ہر مسلمان لڑکی کا جائز اور شرعی حق ہے۔
دنیا بھر میں جامعہ دارالعلوم کراچی کو علمی و شرعی فتاویٰ کے حوالے سے مرجع اور ممتاز مقام حاصل ہے، جس کی سرپرستی اور مہتمم کی ذمہ داری عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس باوقار ادارے کے فتویٰ کو افغان طالبان کی جانب سے قائم کردہ پالیسیوں کے مقابل ایک انتہائی اہم علمی و شرعی سند قرار دیا جا رہا ہے۔
دارالعلوم کراچی کے اس فتوے نے ایک بار پھر عالمی برادری اور علمی حلقوں میں یہ اہم بحث چھیڑ دی ہے کہ کابل میں طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم اور ان کی ملازمتوں پر عائد کی جانے والی سخت پابندیاں اسلامی اصولوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عالمِ اسلام کا اتنا بڑا عالمی و علمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم کو شرعی طور پر تسلیم کر رہا ہے، تو طالبان حکمرانوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے افغان خواتین کے اس قانونی اور شرعی حق کی فوری بحالی کو یقینی بنانا چاہیے۔