افغانستان بھر میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آ گئی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران قندھار، ہرات، فاریاب اور ننگرہار میں طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
قندھار کے عینو مینا پارک میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے ردعمل میں اٹھایا گیا۔
ہرات کے ضلع رباط سنگی میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے کارروائی کے دوران دو طالبان اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ حملے کے بعد جنگجو اپنے ساتھ دو رائفلیں اور ایک ریڈیو بیس بھی لے گئے۔
فاریاب کے ضلع گرزیوان میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے طالبان انٹیلی جنس کے دو اہلکاروں کو مار گرایا۔ دونوں ہلاک شدگان طالبان کمانڈر ملا عبدالکریم کے انتہائی قریبی ساتھی بتائے جاتے ہیں۔
ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں پی ڈی 6 انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر پر گوریلا حملہ کیا گیا۔ اس کارروائی میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا، جبکہ سیکٹر انٹیلی جنس چیف کے حوالے سے صورتحال واضح نہ ہو سکی۔
مختلف صوبوں میں بیک وقت سامنے آنے والے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مزاحمتی گروہ اپنے روایتی حصار سے نکل کر ملک گیر سطح پر اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، جس سے طالبان رجیم پر عسکری و انتظامی دباؤ شدید ہو گیا ہے۔
دیکھیے: قندھار میں طالبان اہلکار ہلاک، یونائیٹڈ فرنٹ نے ذمہ داری قبول کرلی