آزاد کشمیر میں بجلی اور سبسڈی کے مسائل پر قائم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی چار سالہ تحریک شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک میں کے بااثر عناصر عوامی معاشی شکایات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ ان میں سے 24 مطالبات پر عمل درآمد مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی 13 مطالبات پر قانونی اور انتظامی کام جاری ہے۔
حکومت اور کمیٹی کے درمیان اصل تنازع پاکستان میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کے لیے اسمبلی کی 12 مخصوص نشستیں ختم کرنے پر ہے۔ اس مطالبے پر مسلسل ہڑتالوں کے ذریعے دباؤ ڈال رہی ہے۔
آزاد کشمیر سپریم کورٹ 7 جون 2026 کو فیصلہ دے چکی ہے کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں۔ عدالت کے مطابق مکمل آئینی ترمیم کے بغیر ان نشستوں کو ہرگز ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اس مطالبے کو آزاد کشمیر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے، جبکہ کشمیر ریفیوجیز کونسل نے نشستیں بڑھا کر 24 کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 1947 سے قائم یہ نمائندگی مسئلہ کشمیر کے عالمی موقِف کی عکاس ہے۔
منتخب اسمبلی اور قانونی ذرائع کی موجودگی کے باوجود رسمی سیاسی عمل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آئینی معاملے پر مسلسل احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ معاشی مطالبات کی آڑ میں سیاسی ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دیکھیے: آزاد کشمیر انتخابات: عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ مسترد کر دیا