شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق شام کے معزول صدر کو یہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی۔
عدالت نے بشار الاسد کے دور میں تعینات رہنے والے سییورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی اسی مقدمے میں سزائے موت کا حکم سنایا۔ شامی عدالت کے مطابق بشار الاسد کو قتل کے سنگین الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے یہ سزا سنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 8 دسمبر 2024 کو اپوزیشن نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر کے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت کی اپوزیشن سرکاری ٹی وی، ریڈیو اور وزارتِ دفاع کی عمارتوں میں داخل ہو گئے تھے، جبکہ سرکاری فوج کے علاقہ چھوڑنے پر شہریوں نے سڑکوں پر جشن منایا تھا۔
اپوزیشن کے سربراہ نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم محمد الجلالی پُرامن انتقالِ اقتدار مکمل ہونے تک ریاستی اداروں کی نگرانی کریں گے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق بشار الاسد اقتدار کے خاتمے پر طیارے کے ذریعے نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ شام میں اسد خاندان کی حکمرانی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ حافظ الاسد نے 1971 سے 2000 تک ملک پر حکومت کی، جس کے بعد ان کے انتقال پر بیٹے بشار الاسد نے جولائی 2000 میں اقتدار سنبھالا تھا۔
دیکھیے: باب المندب میں حوثیوں کا سعودی جہاز پر حملہ، 3 افراد جاں بحق