"> طالبان کے خلاف مزاحمت میں تیزی، قندھار سے تخار تک مسلح حملے جاری
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان: طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کے حملے تیز، 10 ہلاک اور متعدد زخمی

افغانستان کے صوبوں قندھار، ہلمند اور تخار میں مخالف گروہوں کے حملوں میں 10 طالبان اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
طالبان کے خلاف مزاحمت میں تیزی، قندھار سے تخار تک مسلح حملے جاری

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ اور سپاہِیان میہمن کا قندھار، لشکرگاہ اور تخار میں حملوں کا دعویٰ۔ 10 افراد ہلاک، ملٹری گاڑیاں تباہ۔

August 19, 2026

افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں میں تیز رفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے قندھار، ہلمند اور تخار میں 10 افراد کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے صوبہ قندھار میں 205 کور کے داخلی دروازے پر کامیاب آپریشن کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان کے مطابق قندھار میں طالبان کے زیرِ انتظام فعال 205 کور کی فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں 5 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوئے، جبکہ ان کی ایک ملٹری گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے آٹھویں ضلع سے متصل ارغنداب دریا کے علاقے میں بھی افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی آپریشنل ٹیم نے کارروائی کی۔ اس حملے میں 4 طالبان اہلکار مارے گئے اور ایک رینجر گاڑی تباہ کر دی گئی۔ قندھار اور ہلمند کے واقعات کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق جاری ہے۔

سپاہِیان میہن

اس دوران ایک اور طالبان مخالف سکیورٹی گروپ سپاہِیان میہمن نے صوبہ تخار میں ایک غیر ملکی سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے شمالی اور جنوبی صوبوں میں ان یکے بعد دیگرے کارروائیوں نے طالبان کے سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی ناانصافی، عوامی بے چینی، بلاجواز سخت اقدامات اور بالخصوص خواتین پر عائد پابندیوں و مظالم کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ یہی ناانصافیاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں افغان عوام کو مزاحمت پر مجبور کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں اور عوامی تحرک میں دن بہ دن مزید تیزی اور شدت آتی جا رہی ہے۔

دیکھیے: کنڑ میں ٹی ٹی پی رہنما ہلاک، افغان سرزمین پر دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *