افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں میں تیز رفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے قندھار، ہلمند اور تخار میں 10 افراد کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے صوبہ قندھار میں 205 کور کے داخلی دروازے پر کامیاب آپریشن کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان کے مطابق قندھار میں طالبان کے زیرِ انتظام فعال 205 کور کی فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں 5 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوئے، جبکہ ان کی ایک ملٹری گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے آٹھویں ضلع سے متصل ارغنداب دریا کے علاقے میں بھی افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی آپریشنل ٹیم نے کارروائی کی۔ اس حملے میں 4 طالبان اہلکار مارے گئے اور ایک رینجر گاڑی تباہ کر دی گئی۔ قندھار اور ہلمند کے واقعات کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق جاری ہے۔
سپاہِیان میہن
اس دوران ایک اور طالبان مخالف سکیورٹی گروپ سپاہِیان میہمن نے صوبہ تخار میں ایک غیر ملکی سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے شمالی اور جنوبی صوبوں میں ان یکے بعد دیگرے کارروائیوں نے طالبان کے سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی ناانصافی، عوامی بے چینی، بلاجواز سخت اقدامات اور بالخصوص خواتین پر عائد پابندیوں و مظالم کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ یہی ناانصافیاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں افغان عوام کو مزاحمت پر مجبور کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں اور عوامی تحرک میں دن بہ دن مزید تیزی اور شدت آتی جا رہی ہے۔
دیکھیے: کنڑ میں ٹی ٹی پی رہنما ہلاک، افغان سرزمین پر دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب