اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے تمام تر دعوؤں کے باوجود افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت تقریباً 20 دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں۔
کولن اسمتھ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور حمایت کے نتیجے میں پاکستان کے اندر سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تعداد اور ان کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ داعش خراسان اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان مبینہ روابط قائم ہو چکے ہیں، جبکہ القاعدہ کے ساتھ ان کے مشترکہ تربیتی نیٹ ورکس بھی کام کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے ایک مضمون کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں کسی بھی وقت عالمی سطح پر بڑے حملوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
کولن اسمتھ کے مطابق القاعدہ کی بیرون ملک کارروائیوں کی خواہش میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ افغان سرزمین ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
روس اور یورپی ممالک سمیت متعدد عالمی شراکت داروں نے بھی افغانستان سے جنم لینے والے اس سیکیورٹی چیلنج پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ خطرہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کے لیے تشویشناک ہے۔
مجموعی طور پر اقوام متحدہ کے نتائج اور بین الاقوامی تحقیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین متعدد بین الاقوامی کالعدم تنظیموں کے لیے اب بھی ایک محفوظ آپریشنل ماحول فراہم کر رہی ہے۔