افغانستان میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور اے یو ایف نے بغلان، قندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں طالبان کے سیکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
بدخشاں کے ضلع زیباگ میں اے ایف ایف اور طالبان کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے تک شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد طالبان فورسز کو متعدد پوزیشنز سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
فیض آباد میں طالبان گورنر کے دفتر اور سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جبکہ قندھار میں 205 کور کے فوجی مرکز کے داخلی راستے کو نشانہ بنایا گیا۔
مزاحمتی گروہوں کا دعویٰ ہے کہ ان تمام کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 طالبان اہلکار ہلاک، 28 زخمی اور 3 فوجی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔
شمالی، شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں تک پھیلی یہ پرتشدد کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان میں سیکیورٹی چیلنجز محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہے۔
پانچ سال کے اقتدار کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور مقامی سطح پر بے چینی طالبان حکومت کے سیکیورٹی دباؤ کو واضح کر رہی ہے۔
دیکھیے: اقوام متحدہ کی رپورٹ: افغانستان دہشت گردی کا لانچنگ پیڈ بن گیا