بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد کے نعرے تلے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی مسلح کارروائیوں، جدید ہتھیاروں اور ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عسکریت پسندانہ سوچ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سیاسی اور معاشی محرومیوں پر آئینی جدوجہد اپنی جگہ، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو کسی طور حقوق کی تحریک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بی ایل اے کی جانب سے حالیہ عرصے میں ڈرونز اور جدید عسکری آلات کے استعمال نے ان کے مالی، لاجسٹک اور بیرونی سہولت کاری کے تمام نیٹ ورکس کو نمایاں کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق اس مسلح تشدد کی سب سے بھاری قیمت عام بلوچ شہری ادا کر رہا ہے۔ اسکولوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی سے مقامی آبادی کے تعلیمی، معاشی اور صحتی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ محرومی کا حقیقی حل محض سیاسی عمل اور پائیدار ترقی میں مضمر ہے۔
ناقدین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی بات کرنے والی قیادت اور سیاسی طبقات کو بھی مسلح تشدد اور عوام دشمن کارروائیوں سے واضح لا تعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔ ریاستی سطح پر ان کے مالی و لاجسٹک سورسز کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا شفاف سیاسی حل بھی ناگزیر ہے۔